ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 24

فَاِنۡ یَّصۡبِرُوۡا فَالنَّارُ مَثۡوًی لَّہُمۡ ۚ وَ اِنۡ یَّسۡتَعۡتِبُوۡا فَمَا ہُمۡ مِّنَ الۡمُعۡتَبِیۡنَ ﴿۲۴﴾
پس اگر وہ صبر کریں تو آگ ان کے لیے ٹھکانا ہے اور اگر وہ معافی کی درخواست کریں تو وہ معاف کیے گئے لوگوں سے نہیں ہیں۔
اب اگر یہ صبر کریں گے تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور اگر توبہ کریں گے تو ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔
اب اگر یہ صبر کریں تو بھی ان کا ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ اور اگر یہ (عذر اور) معافی کےخواستگار ہوں تو بھی (معذور اور) معاف نہیں رکھے جائیں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

24۔ اب اگر وہ صبر کریں [29] (یا نہ کریں) آگ ہی ان کا ٹھکانا ہے اور اگر وہ توبہ [30] کرنا چاہیں تو ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی
[29] یعنی دنیا میں صبر کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے۔ لیکن وہاں صبر کا بھی کچھ فائدہ نہ ہو گا۔ وہ صبر کریں یا نہ کریں عذاب سے نجات نہ مل سکے گی۔
[30] ﴿استعتب﴾ کے مختلف مفہوم :۔
﴿يَسْتَعْتِبُوْا کا مادہ عتب ہے اور عتب کے یا عتاب کے معنی ناراضگی دور کرنے کے لیے میٹھے انداز میں خفگی کا اظہار کرنا ہے یعنی ایسی میٹھی میٹھی سرزنش اور ملامت جس کا مقصد بالآخر رضامند ہونا اور مان جانا ہو اور ﴿إسْتَعْتَبَ کے معنی کسی روٹھے ہوئے کو منا لینا اور اعتب کے معنی سبب ناراضگی کو دور کرنا ہے۔ اس لحاظ سے اس جملہ کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں ان میں سے ایک تو وہی ہے جو ترجمہ سے ظاہر ہے۔ دوسرا یہ کہ اگر وہ دوبارہ دنیا میں آنے کی خواہش کریں تو ان کی یہ خواہش تسلیم نہیں کی جائے گی اور تیسرا یہ کہ اگر وہ خوشامد یا منت سماجت کر کے منانا چاہیں جیسا کہ دنیا میں اس طرح بھی کام چل جاتا ہے تو ان کی اس خوشامد یا منت سماجت کا بھی کچھ اثر نہ ہو گا۔