ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 23

وَ ذٰلِکُمۡ ظَنُّکُمُ الَّذِیۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّکُمۡ اَرۡدٰىکُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۲۳﴾
اور یہ تمھارا گمان تھا جو تم نے اپنے رب کے بارے میں کیا، اسی نے تمھیں ہلاک کر دیا، سو تم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو گئے۔
اور اسی خیال نے جو تم اپنے پروردگار کے بارے میں رکھتے تھے تم کو ہلاک کر دیا اور تم خسارہ پانے والوں میں ہو گئے۔
تمہاری اسی بدگمانی نےجو تم نے اپنے رب سے کر رکھی تھی تمہیں ہلاک کر دیا اور بالﺂخر تم زیاں کاروں میں ہو گئے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

23۔ تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے پروردگار کے متعلق کر رکھا تھا تمہیں لے ڈوبا [28] اور تم خسارہ پانے والوں میں ہو گئے۔
[28] اللہ کے متعلق جیسا بندہ گمان رکھے گا ویسا ہی اللہ اس سے معاملہ کرے گا :۔
تمہارا اللہ کے متعلق علم اس قدر کمزور اور مشکوک قسم کا گمان رہا۔ اس لیے تم نے گناہوں سے بچنے کی کبھی کوشش ہی نہ کی تھی اور اس سے بڑھ کر یہ بات تھی کہ تم نہ روز آخرت کے قائل تھے اور نہ اللہ کے حضور جواب دہی کے تصور سے خائف تھے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تم گناہوں پر دلیر ہوتے گئے اور ساری زندگی ہی گناہوں میں گزار دی۔ اپنے پروردگار سے تمہاری یہی بے یقینی تمہاری ہلاکت کا باعث بن گئی۔ اس سے واضح طور پر یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسان جس قسم کی معرفت اپنے پروردگار کی نسبت رکھتا ہے اس طرز اور اسی سانچے میں اس کی پوری زندگی ڈھل جاتی ہے۔ اگر اللہ کی معرفت درست ہو گی تو اس کا طرز عمل پورے کا پورا درست رہے گا اور اس کے نتائج بھی درست نکلیں گے اور اگر معرفت ہی مشکوک یا غلط ہو گی تو اس کے دنیوی یا اخروی نتائج بھی ویسے ہی نکلیں گے۔ چنانچہ درج ذیل حدیث قدسی اسی حقیقت کی وضاحت کرتی ہے: سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ «أنا عند ظن عبدي بي» [بخاري۔ كتاب التوحيد۔ باب قوله تعالىٰ ﴿يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّبدلوْا كَلٰمَ اللّٰهِ] یعنی میرا بندہ میرے متعلق جیسا گمان رکھتا ہے ویسا ہی اس کا میرے بارے میں معاملہ ہو گا اور اسی کے گمان کے مطابق میں اس سے سلوک کروں گا۔ اس کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے: سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے زندگی میں کوئی نیکی کا کام نہ کیا تھا۔ اس نے مرتے وقت یہ وصیت کی کہ میری لاش کو جلا کر آدھی راکھ دریا میں پھینک دینا اور آدھی ہوا میں بکھیر دینا۔ اللہ کی قسم! اگر اس نے مجھے پکڑ لیا تو مجھے ایسی سزا دے گا جو سارے جہانوں میں کسی دوسرے کو نہ دی گئی ہو۔ اللہ نے دریا اور ہوا کو حکم دیا اور اس کے تمام اجزاء اکٹھے کر لیے۔ پھر اسے اپنے پاس حاضر کر کے پوچھا: تم نے ایسا کام کیوں کیا تھا؟ اس نے جواب دیا: ”اے اللہ تو جانتا ہی ہے کہ میں نے یہ کام تیرے ڈر کی وجہ سے کیا تھا“ پھر اللہ نے اسے بخش دیا۔ [بخاري۔ كتاب التوحيد۔ باب قوله تعالىٰ ﴿يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّبدلوْا كَلٰمَ اللّٰهِ]