ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 22

وَ مَا کُنۡتُمۡ تَسۡتَتِرُوۡنَ اَنۡ یَّشۡہَدَ عَلَیۡکُمۡ سَمۡعُکُمۡ وَ لَاۤ اَبۡصَارُکُمۡ وَ لَا جُلُوۡدُکُمۡ وَ لٰکِنۡ ظَنَنۡتُمۡ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَعۡلَمُ کَثِیۡرًا مِّمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۲﴾
اور تم اس سے پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمھارے خلاف تمھارے کان گواہی دیں گے اور نہ تمھاری آنکھیں اور نہ تمھارے چمڑے اور لیکن تم نے گمان کیا کہ بے شک اللہ بہت سے کام، جو تم کرتے ہو، نہیں جانتا۔
اور تم اس (بات کے خوف) سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور چمڑے تمہارے خلاف شہادت دیں گے بلکہ تم یہ خیال کرتے تھے کہ خدا کو تمہارے بہت سے عملوں کی خبر ہی نہیں۔
اور تم (اپنی بداعمالیاں) اس وجہ سے پوشیده رکھتے ہی نہ تھے کہ تم پر تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں گواہی دیں گی، ہاں تم یہ سمجھتے رہے کہ تم جو کچھ بھی کر رہے ہو اس میں سے بہت سے اعمال سے اللہ بےخبر ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

22۔ اور (گناہ کرتے وقت) تم اس بات سے نہیں چھپتے تھے کہ کہیں تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری جلدیں ہی تمہارے خلاف گواہی [26] نہ دے دیں۔ بلکہ تم تو یہ خیال کرتے تھے کہ جو کچھ تم کرتے ہو ان میں سے اکثر باتوں کو اللہ جانتا [27] ہی نہیں
[26] یعنی یہ بات تمہارے حاشیہ خیال میں بھی نہ آسکتی تھی کہ ہمارے خلاف گواہی دینے والے ہمارے اپنے اعضاء بھی ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا ان سے بھی بچنے کی ضرورت ہے۔ اگر تم یہ سوچ لیتے تو تم سے گناہ کا سرزد ہونا ہی ناممکن تھا۔ کیونکہ نہ تم خود اپنے اعضاء سے چھپ سکتے تھے اور نہ ان سے گناہ کو چھپا سکتے تھے۔ نہ ان کے بغیر گناہ کا کام کر سکتے تھے۔
[27] اللہ کی صفات سمیع و بصیر ہونے میں شک کا نتیجہ۔ بد اعمالیاں :۔
بات صرف اتنی نہ تھی کہ تمہیں یہ علم نہ تھا کہ ہمارے اعضاء ہمارے خلاف گواہی دے سکتے ہیں۔ بلکہ تم اللہ تعالیٰ کے علم کے بھی منکر تھے اگر تمہیں یہ یقین ہوتا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں اللہ اسے دیکھ رہا ہے یا ہماری باتیں سن رہا ہے یا ہمارے حالات سے پوری طرح باخبر رہتا ہے تو بھی تم سے گناہ سرزد ہونے کا امکان نہ تھا۔ تمہارا اللہ کے متعلق بھی ایسا یقین انتہائی کمزور تھا کہ وہ تمہارے تمام حالات سے پوری طرح باخبر ہے۔ چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حرم کعبہ میں تین آدمی بیٹھے آپس میں گفتگو کر رہے تھے۔ ان تینوں میں سے دو تو قریشی تھے اور ایک ان کا برادر نسبتی تھا۔ جو ثقفی تھا۔ یہ تینوں خوب موٹے تازے تھے توندیں نکلی ہوئی تھیں مگر عقل کے سب ہی پورے تھے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے پوچھا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اللہ ہماری باتیں سن سکتا ہے؟ دوسرا بولا: ہاں! اونچی آواز سے بات کریں تب تو سن لیتا ہے۔ اور اگر آہستہ آہستہ آواز سے چپکے چپکے بات کریں تو پھر نہیں سنتا۔ تیسرا کہنے لگا: اگر وہ اونچی آواز کو سن لیتا ہے تو آہستہ آواز والی بات بھی سن سکتا ہے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ [بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورۃ حٰم السجدۃ]