ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 20

حَتّٰۤی اِذَا مَا جَآءُوۡہَا شَہِدَ عَلَیۡہِمۡ سَمۡعُہُمۡ وَ اَبۡصَارُہُمۡ وَ جُلُوۡدُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۰﴾
یہاں تک کہ جوں ہی اس کے پاس پہنچیں گے ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔
یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور آنکھیں اور چمڑے (یعنی دوسرے اعضا) ان کے خلاف ان کے اعمال کی شہادت دیں گے۔
یہاں تک کہ جب بالکل جہنم کے پاس آ جائیں گے اور ان پر ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے اعمال کی گواہی دیں گی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

20۔ یہاں تک کہ جب دوزخ کے قریب آپہنچیں گے تو ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے خلاف [24] وہی گواہی دیں گے جو عمل وہ کیا کرتے تھے
[24] اعضاء اور جوارح پر اعمال کے اثرات اور ان کی گواہی :۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اس دنیا میں جو بھی اچھے یا برے اعمال بجا لاتا ہے۔ یہی نہیں کہ کراماً کاتبین اس کے اعمال نامہ میں اس کے سب اعمال و اقوال درج کرتے جاتے ہیں بلکہ ان اعمال و افعال کے اثرات ان اعضاء پر بھی ثبت ہوتے جاتے ہیں جن کو اس کام کے دوران استعمال کیا گیا ہے۔ جو مجرم اپنے گناہوں کا اور پھر خارجی گواہیوں کا بھی انکار کر دیں گے ان پر انہیں کے اعضاء کو گواہ بنا کر لایا جائے گا۔ اور دوسری بات اس سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ جن ذرات سے ہمارا جسم مرکب ہے۔ انہی ذرات سے ہمارا وہ جسم بھی مرکب ہو گا جو قیامت کے دن ہماری روح کو ملے گا۔