اور جو ثمود تھے تو ہم نے انھیں سیدھا راستہ دکھایا مگر انھوںنے ہدایت کے مقابلہ میں اندھا رہنے کو پسند کیا تو انھیںذلیل کرنے والے عذاب کی کڑک نے پکڑ لیا، اس کی وجہ سے جو وہ کماتے تھے۔
اور جو ثمود تھے ان کو ہم نے سیدھا رستہ دکھا دیا تھا مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا دھند رہنا پسند کیا تو ان کے اعمال کی سزا میں کڑک نے ان کو آپکڑا۔ اور وہ ذلت کا عذاب تھا
رہے ﺛمود، سو ہم نے ان کی بھی رہبری کی پھر بھی انہوں نے ہدایت پر اندھے پن کو ترجیح دی جس بنا پر انہیں (سراپا) ذلت کے عذاب، کی کڑک نے ان کے کرتوتوں کے باعﺚ پکڑ لیا
17۔ رہے ثمود تو انہیں ہم نے سیدھی راہ دکھائی مگر انہوں نے راہ دیکھنے کے مقابلہ میں اندھا [21] رہنا ہی پسند کیا۔ آخر انہیں کڑک کی صورت میں ذلت کے عذاب نے پکڑ لیا جو ان کی کرتوتوں کا بدلہ تھا۔
[21] قوم ثمود پر زلزلہ اور چیخ کا عذاب :۔
جسے عاد ثانیہ کہا جاتا ہے اور جن کی طرف سیدنا صالحؑ مبعوث ہوئے تھے۔ انہوں نے سیدنا صالحؑ سے اونٹنی کے پہاڑ سے برآمد ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ جسے اللہ تعالیٰ نے پورا کر دیا تھا۔ جس سے انہیں یقین بھی ہو چکا تھا کہ سیدنا صالحؑ کی پشت پر کوئی مافوق الفطرت ہستی موجود ہے۔ اور وہ فی الواقع اللہ کا رسول ہے۔ لیکن ان باتوں کے باوجود انہوں نے سیدنا صالحؑ کی لائی ہوئی ہدایت کو قبول نہ کیا اور اپنے جاہلانہ اور مشرکانہ رسم و رواج کو چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ یہ لوگ بھی قد و قامت، ڈیل ڈول اور قوت میں اپنی پیشرو قوم عاد سے کسی طرح کم نہ تھے۔ فن تعمیر سنگ تراشی کے بہترین ماہر تھے۔ پہاڑوں کے اندر پتھر تراش تراش کر صرف مکان ہی نہیں بناتے تھے بلکہ راستے بھی بنا کر پہاڑوں کے اندر ہی بستیاں آباد کر رکھی تھی۔ ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے جب ان کے دن گنے جا چکے تو ان پر دوہرا عذاب نیچے سے زلزلہ جس سے ان کے پہاڑوں کے اندر واقع مکانوں میں دراڑیں اور شگاف پڑ گئے اور اوپر سے کڑک اتنی شدید تھی جس سے ان کے جگر پھٹ گئے۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔