جب ان کے پاس ان کے رسول ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے آئے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو، انھوں نے کہا اگر ہمارا رب چاہتا تو ضرور کوئی فرشتے نازل کر دیتا، پس بے شک ہم اس سے جو دے کر تم بھیجے گئے ہو، منکر ہیں۔
جب ان کے پاس پیغمبر ان کے آگے اور پیچھے سے آئے کہ خدا کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو۔ کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے اُتار دیتا سو جو تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے
ان کے پاس جب ان کے آگے پیچھے سے پیغمبر آئے کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتوں کو بھیجتا۔ ہم تو تمہاری رسالت کے بالکل منکر ہیں
14۔ جب ان کے پاس ان کے آگے سے اور پیچھے [16] سے رسول آئے (اور کہا) کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو تو کہنے لگے کہ: اگر اللہ (ہماری ہدایت) چاہتا تو فرشتے نازل کرتا لہذا تم جو پیغام دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کا انکار [17] کرتے ہیں
[16] اس آیت کے کئی مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ ان کے پاس رسول آتے رہے۔ دوسرا یہ کہ ان کے پاس جو رسول آئے انہوں نے ان لوگوں کو ہر پہلو سے سمجھانے کی کوشش کی اور تیسرا یہ کہ ان کے اپنے علاقہ میں بھی رسول آئے اور ان کے گرد و پیش کے علاقہ میں بھی اور ان کی تعلیم بھی ان تک پہنچ چکی تھی۔ [17] یعنی تم تو بشر ہو۔ تمہیں ہم کیسے اللہ کا رسول مان سکتے ہیں۔ کوئی فرشتہ ہمارے پاس رسول بن کر آتا تب بھی کوئی بات تھی۔ ہر منکر حق قوم کو یہ اعتراض رہا ہے اور اس اعتراض کی حقیقت ”خوئے بدرا بہانہ بسیار“ سے زیادہ کچھ نہیں۔ اور اس اعتراض کے جواب بھی قرآن میں جا بجا مذکور ہیں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔