پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہو ا اور وہ ایک دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے کہا کہ آؤ خوشی سے یا ناخوشی سے۔ دونوں نے کہا ہم خوشی سے آگئے۔
پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں
پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وه دھواں (سا) تھا پس اس سے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا ناخوشی سے دونوں نے عرض کیا ہم بخوشی حاضر ہیں
11۔ پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ اس وقت دھواں [9] تھا تو اس نے (اس طرح کے) آسمان اور زمین سے کہا کہ وجود میں آجاؤ خواہ تم چاہو یا نہ چاہو، دونوں نے کہا: ہم فرمانبرداروں کی طرح آگئے
[9] زمین و آسمان کا ملا جلا ملغوبہ :۔
اس آیت میں ثم کا لفظ زمانی ترتیب کے لحاظ سے نہیں ہے بلکہ زمین و آسمان کی تخلیق کے ایک پہلو سے ہے۔ بالفاظ دیگر یہ زمین کی تخلیق کے بعد کا واقعہ نہیں ہے بلکہ پہلے کا ہے۔ جسے بعد میں بیان کیا گیا ہے اور اس کی واضح دلیل یہ آیت ہے۔ ﴿اَوَلَمْيَرَالَّذِيْنَكَفَرُوْٓااَنَّالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضَكَانَتَارَتْقًافَفَتَقْنٰهُمَا﴾ یعنی زمین و آسمان پہلے ملے جلے اور گڈ مڈ تھے؟ تو ہم نے انہیں جدا جدا بنا دیا۔ اور یہاں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ اس وقت فضائے بسیط میں صرف دھواں ہی دھواں یا مرکب قسم کی گیسیں تھیں۔ یعنی کائنات کا ابتدائی ہیولیٰ بھی گیسوں کا مجموعہ تھا۔ اس گیس کے مجموعے سے ہی اللہ تعالیٰ نے زمین، آسمان، سورج، چاند، ستارے سب کچھ بنا دیئے۔ کائنات کے جس نقشہ کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا تھا کہ زمین فلاں مقام پر اور اتنی جسامت کی ہونی چاہئے۔ آسمان ایسے ہونا چاہئیں سورج فلاں مقام پر اور زمین سے اتنے فاصلہ پر اور اتنی جسامت کا ہونا چاہئے۔ ستارے اور کہکشائیں چاند اور ستارے ایسے اور ایسے ہونے چاہئیں۔ غرض اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے مطابق گیسوں کے اس ہیولیٰ سے یہ سب چیزیں بنتی چلی گئیں اور اس طرح کائنات کی تخلیق پر چھ یوم (ادوار) صرف ہوئے۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔