ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 1

حٰمٓ ۚ﴿۱﴾
حم۔
حٰم
حٰم

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

حٰمۤ [1]
[1] سرداران قریش دعوت اسلام کو نیچا دکھانے کے لیے کئی طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے تھے۔ انہیں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ کسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین مکہ میں بالفاظ دیگر حق و باطل میں سمجھوتہ ہو جائے۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حرم کے ایک گوشہ میں اور چند سرداران قریش دوسرے گوشہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ عتبہ بن ربیعہ ایک معزز قریشی سردار، نہایت بہادر اور فطرتاً نیک دل انسان تھا۔ وہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ میں ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ باتیں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے وہ ان میں سے ایک نہ ایک ضرور مان لے گا اور اگر اس نے قبول کر لی تو ہم اس مصیبت سے نجات حاصل کر سکیں گے۔“ اس کے ساتھیوں نے کہا: ابو الولید! آپ ضرور یہ کام کیجئے۔ چنانچہ عتبہ وہاں سے اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ بیٹھا اور کہنے لگا: ”بھتیجے! ہماری قوم میں جو تفرقہ پڑ چکا ہے اسے آپ جانتے ہیں۔ اب میں چند باتیں پیش کرتا ہوں ان میں سے جو بھی چاہو پسند کر لو۔ مکہ کی ریاست چاہتے ہو یا کسی بڑے گھرانے میں شادی یا مال و دولت؟ اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی جن بھوت آتا ہے تو اس کے علاج کی بھی ذمہ داری ہم قبول کرتے ہیں۔ ہم یہ سب کچھ مہیا کر سکتے ہیں اور اس پر بھی راضی ہیں کہ مکہ تمہارا زیر فرمان ہو مگر تم ان باتوں سے باز آجاؤ“
عتبہ بن ربیعہ کی آپ کو پیش کش اور آپ کا جواب (حق و باطل میں سمجھوتہ کی کوشش) :۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عتبہ کی باتیں خاموشی سے سنتے رہے۔ جب عتبہ خاموش ہو گیا۔ تو آپ نے عتبہ سے کہا کہ جو کچھ کہنا تھا کہہ چکے۔ اب میرا جواب سن لو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب باتوں کے جواب میں اسی سورۃ کی چند ابتدائی آیات پڑھیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت پر پہنچے: ﴿فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ تو عتبہ کے آنسو بہنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ اسے یہ خطرہ محسوس ہونے لگا تھا کہ کہیں ایسا عذاب اسی وقت نہ آن پڑے۔ پھر وہ چپ چاپ وہاں سے اٹھ کر چلا آیا۔ مگر اب وہ پہلا عتبہ نہ رہا تھا۔ جا کر اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کلام پیش کرتا ہے وہ شاعری نہیں کچھ اور ہی چیز ہے۔ تم اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔ اگر وہ عرب پر غالب آگیا تو اس میں تمہاری ہی عزت ہے اور اگر وہ خود ہی ختم ہو گیا تو یہی کچھ تم لوگ چاہتے ہو“ اس کے ساتھیوں نے کہا: ابو الولید! معلوم ہوتا ہے کہ تم پر بھی اس کا جادو چل گیا۔ [تفسير ابن كثير ج 6 ص 159 تا 161]