ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 82

اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَانُوۡۤا اَکۡثَرَ مِنۡہُمۡ وَ اَشَدَّ قُوَّۃً وَّ اٰثَارًا فِی الۡاَرۡضِ فَمَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۸۲﴾
اور وہ تمھیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے، پھر تم اللہ کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کرو گے ۔ تو کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، وہ (تعداد میں) ان سے زیادہ تھے اور قوت میں اور زمین میں یادگاروں کے اعتبار سے ان سے بڑھ کر تھے، تو ان کے کسی کام نہ آیا، جو وہ کماتے تھے۔ En
کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔ (حالانکہ) وہ ان سے کہیں زیادہ طاقتور اور زمین میں نشانات (بنانے) کے اعتبار سے بہت بڑھ کر تھے۔ تو جو کچھ وہ کرتے تھے وہ ان کے کچھ کام نہ آیا
En
کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر اپنے سے پہلوں کا انجام نہیں دیکھا؟ جو ان سے تعداد میں زیاده تھے قوت میں سخت اور زمین میں بہت ساری یادگاریں چھوڑی تھیں، ان کے کیے کاموں نے انہیں کچھ بھی فائده نہیں پہنچایا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

82۔ کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر دیکھا نہیں کہ جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کا کیا انجام ہوا؟ وہ تعداد میں ان سے زیادہ، قوت میں ان سے سخت، اور زمین میں اپنے آثار چھوڑنے میں [102] ان سے بڑھ کر تھے، مگر جو وہ کام کر رہے تھے یہ سب چیزیں ان کے کچھ کام نہ آسکیں
[102] اقوام سابقہ کی شان و شوکت :۔
سابقہ اقوام اپنے قد و قامت، جسمانی قوت، فن تعمیر اور فن زراعت پر کام میں ان کفار مکہ سے بہت آگے تھے۔ اور یہ لوگ تو ان کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں مگر جب انہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کا احسان ماننے کی بجائے بغاوت پر اتر آئے۔ پھر جب ان پر اللہ کا عذاب آیا تو ان کی یہ ساری خوبیاں اور شان و شوکت دھرے کے دھرے رہ گئے۔ پھر آخر تم ان سے کمزور اور کمتر ہو کر کیوں ایسی اکڑ دکھا رہے ہو؟ اور تم اپنی کرتوتوں کے انجام سے کیونکر بچ سکو گے؟