ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 65

ہُوَ الۡحَیُّ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ فَادۡعُوۡہُ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۵﴾
وہی زندہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سواسے پکارو، اس حال میں کہ اسی کے لیے دین کو خالص کرنے والے ہو، سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ En
وہ زندہ ہے (جسے موت نہیں) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو اس کی عبادت کو خالص کر کر اسی کو پکارو۔ ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جو تمام جہان کا پروردگار ہے
En
وه زنده ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم خالص اس کی عبادت کرتے ہوئے اسے پکارو، تمام خوبیاں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

65۔ وہی زندہ [87] ہے (جسے موت نہیں) اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ لہذا تم خالص اسی کی حاکمیت [88] تسلیم کرتے ہوئے اسے پکارا کرو۔ ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہی ہے۔
[87] اللہ کی صفات ازلی اور اندی ہیں :۔
وہی ایک ذات ایسی ہے کہ ازل سے زندہ ہے اور ابدا لآباد تک زندہ رہے گی۔ باقی سب چیزیں حادث ہیں اور وہ کسی نہ کسی وقت فنا سے دوچار ہو جائیں گی خواہ وہ جاندار ہیں یا بے جان۔ باقی تمام جانداروں کی زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے جب کہ اس کی زندگی ذاتی ہے۔ لہٰذا اصل میں زندہ کہلانے کا وہی مستحق ہے پھر جس طرح اس کی زندگی ازلی اور اندی ہے اسی طرح اس کی دوسری تمام صفات بھی ازلی ابدی ہیں۔ اور معبود برحق صرف وہی ذات ہو سکتی ہے جس کی حیات اور دوسری صفات مستقل اور دائمی ہوں۔ دوسرے کسی الٰہ میں یہ صفات موجود نہیں ہیں۔
[88] اس کی تشریح کے لئے سورۃ زمر کی آیت نمبر 2 اور 3 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔