ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 58

وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ۬ۙ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الۡمُسِیۡٓءُ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۵۸﴾
اور نہ اندھا اور دیکھنے والا برابر ہوتا ہے اور نہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوںنے نیک اعمال کیے اور نہ وہ جو برائی کرنے والا ہے، بہت کم تم نصیحت حاصل کرتے ہو۔ En
اور اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں۔ اور نہ ایمان لانے والے نیکوکار اور نہ بدکار (برابر ہیں) (حقیقت یہ ہے کہ) تم بہت کم غور کرتے ہو
En
اندھا اور بینا برابر نہیں نہ وه لوگ جو ایمان ﻻئے اور بھلے کام کیے بدکاروں کے (برابر ہیں)، تم (بہت) کم نصیحت حاصل کر رہے ہو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

58۔ نابینا اور بینا یکساں نہیں ہو سکتے اور جو لوگ ایمان لائیں اور اچھے عمل کریں، وہ اور بد کردار [76] یکساں نہیں ہو سکتے (مگر) تم لوگ کم ہی سوچتے ہو۔
[76] ایک دنیا دار اور متقی کے کردار کا موازنہ :۔
یہ بعث بعد الموت پر دوسری دلیل ہے۔ یعنی ایک شخص اپنا تمام طرز زندگی وحی الٰہی کی روشنی میں استوار کرتا ہے۔ اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے ہر طرح کے مصائب برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ پھر اپنی زندگی اور اپنی خواہشات پر کئی طرح کی پابندیاں عائد کرتا ہے جو حکم الٰہی کے مطابق ضروری تھیں۔ ہمیشہ راست بازی اور دیانتداری سے کام لیتا ہے۔ کسی کو نہ فریب دیتا ہے نہ کسی پر زیادتی کرتا ہے اور ایک شریف انسان کی طرح اللہ سے ڈرتے ہوئے محتاط زندگی گزار رہا ہے۔ دوسرا وہ شخص ہے جس کے پاس تقلید آباء اور جہالت کی تاریکیوں کے سوا کچھ نہیں۔ اپنے نفس کی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے وہ لوگوں کے حقوق پر ڈاکے ڈالتا ہے۔ اس کی زندگی کا اصول مفاد پرستی ہوتا ہے۔ جس کی خاطر وہ ہر طرح کی زیادتی کرنے پر ہر وقت آمادہ رہتا ہے۔ پھر اس کے سامنے اللہ کے حضور جواب دہی کا تصور ہوتا ہی نہیں۔ اس کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ جس طرح سے بھی اور جتنی بھی دنیا اکٹھی کر لی جائے اور عیش و عشرت کر لی جائے بس وہی غنیمت ہے۔ تو بتاؤ کہ کیا ان دونوں کا انجام ایک جیسا ہی ہونا چاہئے۔ کہ دونوں مر کر مٹی ہو جائیں۔ نہ نیک انسانوں کو ان کے اچھے اعمال کا صلہ ملے اور نہ بد کردار لوگوں کو ان کی کرتوتوں کی سزا ملے؟ اور اگر تمہارے خیال میں یہ دونوں شخص ایک جیسے نہیں اور دونوں کا انجام ایک جیسا نہ ہونا چاہئے تو پھر ضروری ہے کہ انسان کو دوسری زندگی دی جائے جس میں اسے اس کے اعمال کا اچھا یا برا بدلہ دیا جا سکے۔ گویا اصل دلیل کا ماحصل یہ تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے اور دوسری دلیل کا ماحصل یہ ہے کہ ایسا ہونا چاہئے۔