ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 51

اِنَّا لَنَنۡصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ یَوۡمَ یَقُوۡمُ الۡاَشۡہَادُ ﴿ۙ۵۱﴾
بے شک ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ En
ہم اپنے پیغمبروں کی اور جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے (یعنی قیامت کو بھی)
En
یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد زندگانیٴ دنیا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جب گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

51۔ ہم یقیناً اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں [67] بھی مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی کریں گے جب گواہ کھڑے [68] ہوں گے
[67] اللہ کی امداد کی صورتیں :۔
دنیا میں رسولوں اور مومنوں کی مدد کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ ان کے دشمنوں کو تباہ کر دیا جائے اور انہیں ظالموں کے پنجہ استبداد سے نجات دلا دی جائے۔ دوسری یہ کہ انہیں سیاسی تفوق بھی حاصل ہو جائے۔ اور تیسری یہ کہ دنیا میں انہیں کا بول بولا ہو یعنی جس مقصد کے لئے وہ کھڑے ہوتے ہیں اللہ کی مدد ان کے شامل حال رہتی ہے۔ اور حق پرستوں کی قربانیاں کسی بھی حال میں ضائع نہیں جاتیں۔ ان تینوں صورتوں میں سے کسی نبی کو صرف ایک قسم کی مدد حاصل ہوئی، کسی کو دو قسم کی اور کسی کو تینوں قسم کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرامؓ کی طرف سے تینوں طرح کی مدد سے فیض یاب ہوئے۔
[68] یعنی قیامت کے دن جب ہر نبی سے اس کی امت کے متعلق گواہی لی جائے گی۔ علاوہ ازیں ان نیک بندوں کی بھی جن کی معرفت لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا گیا۔ اس دن میدان محشر میں جمع شدہ تمام لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ انبیاء اور صلحاء کا مقام عام لوگوں سے کس قدر بلند ہے۔ نیز وہ یہ بھی دیکھ لیں گے کہ اس دن جب کوئی کسی کی مدد نہ کر سکے گا۔ اللہ اپنے نبیوں اور ایمانداروں کی کس طرح مدد اور حوصلہ افزائی کرتا ہے۔