ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 50

قَالُوۡۤا اَوَ لَمۡ تَکُ تَاۡتِیۡکُمۡ رُسُلُکُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ ؕ قَالُوۡا بَلٰی ؕ قَالُوۡا فَادۡعُوۡا ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الۡکٰفِرِیۡنَ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ ﴿٪۵۰﴾
وہ کہیں گے اور کیا تمھارے پاس تمھارے رسول واضح دلیلیں لے کر نہیں آیا کرتے تھے ؟کہیں گے کیوں نہیں ،وہ کہیں گے پھر دعا کرو اور کافروں کی دعا تو بالکل ہی بے کار ہے۔ En
وہ کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے۔ وہ کہیں گے کیوں نہیں تو وہ کہیں گے کہ تم ہی دعا کرو۔ اور کافروں کی دعا (اس روز) بےکار ہوگی
En
وه جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے رسول معجزے لے کر نہیں آئے تھے؟ وه کہیں گے کیوں نہیں، وه کہیں گے کہ پھر تم ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا محض بے اﺛر اور بےراه ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

50۔ وہ کہیں گے ”کیا تمہارے پاس رسول واضح دلائل لے کر نہیں [64] آئے تھے؟“ دوزخی کہیں گے: ”کیوں نہیں“ (ضرور آئے تھے) تو وہ کہیں گے: ”پھر تم خود [65] ہی دعا کر لو“ اور کافروں کی دعا تو گُم ہی ہو جانے والی [66] ہے۔
[64] وہ کہیں گے کہ سفارش بھی آخر کسی عذر کی بنا پر ہی ہو سکتی ہے۔ لیکن تم نے معذرت کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑی تو سفارش میں ہم کیا کہیں۔ یا تو تم یہ کہو کہ ہمارے پاس نہ رسول آئے تھے نہ ہمیں اللہ کا پیغام پہنچا تھا۔ اور جب تمہارے پاس اللہ کے رسول واضح دلائل لے کر گئے تھے اور تمہیں ہر طرح کے انجام سے مطلع کر دیا تھا تو پھر سفارش کس بنیاد پر کی جا سکتی ہے؟
[65] یہ فرشتوں کا دوسرا جواب ہے۔ کہ ہمارا کام سفارش کرنا نہیں اور جو ہمارا کام ہے وہ ہم کر ہی رہے ہیں سفارش کرنا رسولوں کا کام ہے اور ان کی مخالفت کر کے تم نے انہیں پہلے ہی ناراض کر رکھا ہے۔ لہٰذا اب خود ہی دعا کر کے دیکھ لو۔
[66] یعنی بے اثر، بے نتیجہ اور بے کار ثابت ہوتی ہے۔ کافروں کی پکار اللہ تعالیٰ تک پہنچتی ہی نہیں۔ راستے میں ہی گم ہو جاتی ہے۔