ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 45

فَوَقٰىہُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِ مَا مَکَرُوۡا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ ﴿ۚ۴۵﴾
تو اللہ نے اسے ان کے برے نتائج سے بچالیا جو انھوں نے تدبیریں کیں اور آل فرعون کو برے عذاب نے گھیر لیا۔ En
غرض خدا نے موسیٰ کو ان لوگوں کی تدبیروں کی برائیوں سے محفوظ رکھا اور فرعون والوں کو برے عذاب نے آگھیرا
En
پس اسے اللہ تعالیٰ نے تمام بدیوں سے محفوظ رکھ لیا جو انہوں نے سوچ رکھی تھیں اور فرعون والوں پر بری طرح کا عذاب الٹ پڑا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

45۔ ان لوگوں نے جو چالیں اس مرد مومن کے خلاف چلی تھیں [59] اللہ نے ان سے اسے بچا لیا اور آل فرعون خود ہی برے عذاب میں گھر گئے۔
[59] معلوم ایسا ہوتا ہے کہ فرعون اس مرد مومن کو فوری طور پر قتل نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ اس کو گرفتار کر کے اسے جسمانی تعذیب دینا چاہتا تھا تاکہ اس سے وہ سب باتیں اگلوا لے جن باتوں کی اسے ضرورت تھی۔ ان لوگوں نے اس مرد مومن کے خلاف کیا چالیں چلی تھیں۔ ان کی وضاحت معلوم نہیں ہو سکی۔ بہرحال اس واقعہ کے بعد جلد ہی سیدنا موسیٰؑ کو ہجرت کا حکم مل گیا اور یہ مرد مومن بھی مہاجرین میں شامل تھا۔ اس طرح اسے فرعون کی چالوں سے نجات مل گئی۔ اور جب فرعون اور آل فرعون نے ان مہاجرین کا تعاقب کیا تو خود ہی اپنی اس چال میں پھنس گئے۔