44۔ جو کچھ میں تم سے کہہ رہا ہوں عنقریب تم اسے یاد [58] کرو گے اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ بلا شبہ اللہ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔“
[58] مرد مومن کی تقریر کا فرعون پر رد عمل :۔
اس مرد مومن کی تقریر کا یہ آخری حصہ ہے اور اس سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ اس نے یہ تقریر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کی تھی۔ اور یہ کہ اب فرعون اسے کسی قیمت پر زندہ نہیں رہنے دے گا۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ مرد مومن کسی معمولی عہدے پر فائز نہ تھا بلکہ کسی انتہائی نازک اور ذمہ دارانہ منصب اس کے سپرد تھا۔ جسے فرعون فوری طور پر گرفتار کرنے کی جرأت نہ کر سکا۔ فرعون کو یہ تو معلوم ہو چکا تھا کہ سیدنا موسیٰؑ کی دعوت اس کی انتہائی پابندیوں اور سختیوں کے باوجود ایوان بالا تک سرایت کر چکی ہے۔ لہٰذا اب یہ معاملہ صرف اکیلے اس مرد مومن کا یا موسیٰؑ ہی کے قتل کا نہ رہا تھا بلکہ اب وہ یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ دعوت اسلامی کے اثرات اس کے اپنے دربار اور اس کی اپنی آل میں کہاں تک نفوذ کر چکے ہیں اس لئے سر دست اس نے ان دونوں کو التواء میں ڈال دیا کہ مبادا ان دونوں میں سے کسی ایک یا دونوں کو قتل کرنے سے کوئی ایسا ہنگامہ نہ اٹھ کھڑا ہو جس پر بعد میں قابو نہ پایا جا سکے۔ اور تیسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جو کچھ اس مرد مومن کے دل میں تھا وہ اس نے پوری جرأت کے ساتھ برملا کہہ ڈالا۔ اور اپنی سچائی کی مزید توثیق کے لئے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ عنقریب تم لوگ میری باتوں کو یاد کرو گے کہ جو کچھ اس آدمی نے باتیں کہی تھیں وہ فی الواقع درست تھیں۔ عنقریب سے مراد روز آخرت بھی ہو سکتا ہے اور وہ دن بھی جبکہ آل فرعون پر عذاب آیا تھا اور وہ بحیرہ قلزم میں غرق کر دیئے گئے تھے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔