کوئی شک نہیں کہ تم مجھے جس کی طرف بلاتے ہو اس کے لیے کسی طرح پکارنا نہ دنیا میں (درست) ہے اور نہ آخرت میں اور یہ کہ یقینا ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف ہے اور یہ کہ یقینا حدسے بڑھنے والے، وہی آگ میں رہنے والے ہیں۔
En
سچ تو یہ ہے کہ جس چیز کی طرف تم مجھے بلاتے ہو اس کو دنیا اور آخرت میں بلانے (یعنی دعا قبول کرنے) کا مقدور نہیں اور ہم کو خدا کی طرف لوٹنا ہے اور حد سے نکل جانے والے دوزخی ہیں
یہ یقینی امر ہے کہ تم مجھے جس کی طرف بلا رہے ہو وه تو نہ دنیا میں پکارے جانے کے قابل ہے نہ آخرت میں، اور یہ (بھی یقینی بات ہے) کہ ہم سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے اور حد سے گزر جانے والے ہی (یقیناً) اہل دوزخ ہیں
En
43۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جس کی طرف تم مجھے دعوت دیتے ہو اسے پکارنے کا نہ دنیا میں کوئی فائدہ ہے [56] اور نہ آخرت میں۔ اور یہ کہ ہماری واپسی اللہ کی طرف ہے اور بلا شبہ حد [57] سے بڑھنے والے ہی دوزخی ہیں۔
[56] اس جملہ کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں۔ پہلا تو وہی مطلب ہے جو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں کو نہ دنیا میں یہ حق پہنچتا ہے نہ آخرت میں کہ ان کی خدائی تسلیم کرنے کے لئے لوگوں کو دعوت دی جائے۔ تیسرا یہ کہ انہیں تو لوگوں نے زبردستی خدا بنا رکھا ہے ورنہ وہ خود نہ اس دنیا میں خدائی کے مدعی ہیں، نہ آخرت میں یہ دعویٰ لے کر اٹھیں گے کہ ہم بھی تو خدا تھے ہمیں کیوں نہ مانا گیا۔ [57] اگرچہ ہر کام میں حد اعتدال سے آگے نکل جانے کو اسراف کہہ سکتے ہیں مگر یہاں مُسْرِفِیْنَ سے مراد وہ لوگ ہیں جو عاجز مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے اختیارات و تصرفات میں شریک بنا لیتے ہیں۔ ایسے مسرفین ہی وہ دوزخی ہیں جنہیں کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔