ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 39

یٰقَوۡمِ اِنَّمَا ہٰذِہِ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا مَتَاعٌ ۫ وَّ اِنَّ الۡاٰخِرَۃَ ہِیَ دَارُ الۡقَرَارِ ﴿۳۹﴾
اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو معمولی فائدے کے سوا کچھ نہیں اور یقینا آخرت، وہی رہنے کا گھر ہے۔ En
بھائیو یہ دنیا کی زندگی (چند روزہ) فائدہ اٹھانے کی چیز ہے۔ اور جو آخرت ہے وہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے
En
اے میری قوم! یہ حیات دنیا متاع فانی ہے، (یقین مانو کہ قرار) اور ہمیشگی کا گھر تو آخرت ہی ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

39۔ اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو بس چند روزہ ہے اور ہمیشہ کے قیام کا گھر آخرت [53] ہی ہے۔
[53] اب وہ مرد مومن کھل کر سامنے آتا ہے۔ فرعون نے کہا تھا کہ میں اپنی بصیرت کے مطابق جو راہ بھلائی کی دیکھتا ہوں وہی تمہیں بتا رہا ہوں۔ اس مرد مومن نے فرعون کی اس بات کے جواب میں کہا کہ بھلائی کی راہ وہ نہیں جو تم کہتے ہو کہ موسیٰ کو قتل کر دیا جائے بلکہ بھلائی کی راہ چاہتے ہو تو میری بات مانو۔ میں تمہیں بھلائی کی راہ بتاتا ہوں اور وہ راہ یہ ہے کہ یہ دنیا چند روزہ ہے عیش و آرام سے گزر جائے تو بھی کوئی بات نہیں اور تنگی ترشی میں گزرے تو بھی گزر ہی جائے گی فکر تو اخروی زندگی کی کرنی چاہئے جو دائمی اور لازوال ہے۔ یہ دنیا تو صرف دار الامتحان ہے۔ پھر اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمانبرداروں کے لئے بہت مراعات ملحوظ رکھی ہیں۔ مثلاً اگر کوئی برا کام کرے گا تو اسے اتنا ہی بدلہ دیا جائے گا اور کوئی اچھے کام کرے گا تو اس کا بہت ہی زیادہ اجر دیا جائے گا لہٰذا دنیا کی اس چند روزہ زندگی کو غنیمت سمجھو اور زیادہ سے زیادہ اچھے کام کر کے اجر عظیم کے مستحق بن جاؤ۔