32۔ اے میری قوم! میں تم پر آہ و فغان کے دن [46] (کے آنے) سے ڈرتا ہوں
[46] ﴿يَوْمَ التَّنَادِ﴾ کے مختلف مفہوم :۔
اکثر مفسرین نے ﴿يَوْمَالتَّنَادِ﴾ سے مراد قیامت کا دن لیا ہے جس دن تابعداری کرنے والے اپنے بڑوں (مطاع حضرات) کے متعلق فریاد کر رہے ہوں گے۔ مظلوم ظالم کو پکڑے ہوئے فریاد کر رہا ہو گا۔ عابد اپنے معبودوں سے نالاں ہوں گے وغیرہ یا اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اہل جنت اہل دوزخ سے، اہل اعراف اہل دوزخ سے، دوزخی آپس میں جنتی آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہوں گے لیکن جن مفسرین نے ﴿يوم التناد﴾ سے مراد عذاب الٰہی کے نازل ہونے کا دن مراد لیا ہے۔ وہ ربط مضمون کے لحاظ سے زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ یعنی عذاب الٰہی کے وقت وہ سب آہ و فغاں کرتے ہوں گے اور اسی حال میں ان کا خاتمہ ہو جائے گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔