ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 31

مِثۡلَ دَاۡبِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوۡدَ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ ؕ وَ مَا اللّٰہُ یُرِیۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعِبَادِ ﴿۳۱﴾
نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور ان لوگوں کے حال کی مانند سے جو ان کے بعد تھے اور اللہ اپنے بندوں پر کسی طرح کے ظلم کا ارادہ نہیں کرتا۔ En
یعنی) نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے پیچھے ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح (تمہارا حال نہ ہوجائے) اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا
En
جیسے امت نو ح اور عاد وﺛمود اور ان کے بعد والوں کا (حال ہوا)، اللہ اپنے بندوں پر کسی طرح کا ﻇلم کرنا نہیں چاہتا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

31۔ جیسے قوم نوح، عاد، ثمود، اور ان کے بعد آنے والوں کی بری حالت [44] ہوئی تھی۔ اور اللہ تو یہ نہیں چاہتا کہ (اپنے) بندوں پر ظلم [45] کرے
[44] فرعون کے جواب سے اس مرد مومن کو یہ معلوم ہو گیا تھا کہ فرعون نے اس کی نصیحت کا خاک بھی اثر قبول نہیں کیا۔ اور اس کے خیالات میں کوئی تبدیلی پیدا نہ ہوئی تو اس نے مزید وضاحت سے سمجھانا شروع کیا اور کہا کہ تم سے پہلے بہت سی ایسی قومیں گزر چکی ہیں جو شان و شوکت میں تم سے بھی بڑھ کر تھیں۔ جیسے قوم نوح، عاد اور ثمود وغیرہ، ان لوگوں نے بھی اپنے اپنے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور ان کے درپے آزار ہو گئے تھے جس کے نتیجہ میں ان پر عذاب آیا جس نے انہیں تباہ کر کے رکھ دیا تھا اور مجھے یہ خدشہ ہے کہ ہم پر بھی کہیں ایسا ہی عذاب نازل نہ ہو جائے۔
[45] پیغمبر اللہ کے سفیر ہوتے ہیں :۔
اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں پر ظلم کرنے یا ان پر عذاب نازل کرنے کا شوق ہرگز نہیں۔ بلکہ یہ بندوں کے اپنے ہی اعمال ہوتے ہیں جو سزا کا موجب بن جاتے ہیں جیسے دنیا کی کوئی حکومت بھی یہ گوارا نہیں کرتی کہ اس کے سفیر کو رسوا کیا جائے یا اسے قتل ہی کر دیا جائے۔ بلکہ فوراً انتقام لینے پر آمادہ ہو جاتی ہے۔ تو بھلا اللہ تعالیٰ جو سب پر غالب ہے اور انتقام لینے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ وہ اپنے رسولوں کو رسوا ہوتا دیکھ کر ان کی مدد نہ کرے گا اور رسوا کرنے والوں سے انتقام نہ لے گا؟