ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 24

اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ ہَامٰنَ وَ قَارُوۡنَ فَقَالُوۡا سٰحِرٌ کَذَّابٌ ﴿۲۴﴾
فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو انھوں نے کہا جادوگر ہے، بہت جھوٹا ہے۔ En
(یعنی) فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا
En
فرعون ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا (یہ تو) جادوگر اور جھوٹا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

24۔ مگر انہوں نے کہا کہ ”یہ تو جادو گر ہے بڑا [32] جھوٹا“
[32] ان کے یہ الزام محض زبانی اور دوسرے لوگوں کو مطمئن رکھنے کی غرض سے تھے آپ نے جو لاٹھی کے سانپ بن جانے اور ید بیضاء کے معجزات پیش کئے تھے اس لحاظ سے وہ سیدنا موسیٰ ؑ کو جادوگر کہہ دیتے تھے۔ اور آپ کے دعوائے رسالت کے لحاظ سے آپ کو جھوٹا کہتے تھے۔ مگر خود وہ اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ سیدنا موسیٰ ؑ نہ جادوگر ہیں اور نہ اپنے دعویٰ میں جھوٹے ہیں۔ کیونکہ جادوگر تو فرعون کے ملک میں بے شمار تھے۔ مگر کسی جادوگر سے یہ تو نہ ہو سکا کہ وہ اپنے جادو کے زور سے ملک بھر میں قحط مسلط کر دے اور جب اس سے اس قحط کو دور کرنے کی درخواست کی جائے تو وہ اپنے جادو کے زور سے بارشیں برسا کر قحط ختم کر دے۔ بلکہ جادوگروں نے ہی تو بھرے میدان میں سیدنا موسیٰ ؑ پر ایمان لا کر فرعون کی مکارانہ سازشوں کی قلعی کھول دی تھی۔