ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 18

وَ اَنۡذِرۡہُمۡ یَوۡمَ الۡاٰزِفَۃِ اِذِ الۡقُلُوۡبُ لَدَی الۡحَنَاجِرِ کٰظِمِیۡنَ ۬ؕ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ حَمِیۡمٍ وَّ لَا شَفِیۡعٍ یُّطَاعُ ﴿ؕ۱۸﴾
اور انھیں قریب آنے والی گھڑی کے دن سے ڈرا جب دل گلوں کے پاس غم سے بھرے ہوں گے، ظالموں کے لیے نہ کوئی دلی دوست ہو گا اور نہ کوئی سفارشی، جس کی بات مانی جائے۔ En
اور ان کو قریب آنے والے دن سے ڈراؤ جب کہ دل غم سے بھر کر گلوں تک آرہے ہوں گے۔ (اور) ظالموں کا کوئی دوست نہ ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات قبول کی جائے
En
اور انہیں بہت ہی قریب آنے والی (قیامت سے) آگاه کر دیجئے، جب کہ دل حلق تک پہنچ جائیں گے اور سب خاموش ہوں گے، ﻇالموں کا نہ کوئی دلی دوست ہوگا نہ سفارشی، کہ جس کی بات مانی جائے گی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ اور (اے نبی!) انہیں قریب آ پہنچنے [24] والے دن سے ڈرائیے جب غم کے مارے کلیجے منہ کو آ رہے [25] ہوں گے (اس دن) ظالموں کا نہ کوئی حمایتی ہو گا اور نہ ایسا سفارشی [26] جس کی بات مانی جائے
[24] ﴿اَزِفَ﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿اٰزِفَه ﴿اَزِفَ میں وقت کی تنگی کا مفہوم پایا جاتا ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ گاڑی یا جہاز کے روانہ ہونے میں وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ لہٰذا جلدی کرو۔ اسی طرح قیامت کا دن جو یقینی طور پر آنے والا ہے اسے بس آیا ہی سمجھو اور اس کے لئے جو کچھ سامان کرنا ہے جلدی جلدی کر لو۔
[25] ﴿كَظَم﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿كَاظِمِيْنَ ﴿كظم﴾ سانس کی نالی کو کہتے ہیں اور ﴿كظم السقاء﴾ بمعنی مشک کو پانی سے لبالب بھر کر اس کا منہ بند کر دینا ہے اور کا ظم، کظیم اور مکظوم اس شخص کو کہتے ہیں جو غم و غصہ سے سانس کی نالی تک بھرا ہوا ہو مگر اسکا اظہار نہ کرے اور اسے دبا جائے۔ یعنی مجرموں کو اپنی دنیا کی زندگی کی کرتوتوں پر اس قدر غم ہو گا جس کی گھبراہٹ کی وجہ سے ان کے کلیجے منہ کو آرہے ہوں گے۔
[26] سفارش کا عوامی عقیدہ :۔
شفاعت کے متعلق مشرکوں نے جو غلط سلط عقیدے گھڑ رکھے ہیں، بالکل بے کار ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مثلاً فلاں حضرت کا دامن پکڑ لیا جائے اور اس کی بیعت کر لی جائے تو بس بیڑا پارا ہے۔ وہ اللہ کے حضور سفارش کر کے ہمیں چھڑا لیں گے۔ حالانکہ قرآن کی صراحت کے مطابق یہ معلوم کرنا بھی مشکل ہے کہ جن حضرات کو وہ شفیع سمجھ رہے ہیں وہ خود کس حال میں ہوں گے۔ نیز انہیں شفاعت کی اجازت بھی ملے گی یا نہیں اور اگر بفرض محال یہ تسلیم کر لیا جائے کہ انہیں اجازت مل جائے گی تو پھر بھی یہ کب لازم آتا ہے کہ اس کی بات مان بھی لی جائے گی۔ لہٰذا کسی کی شفاعت پر انحصار کرنا بالکل عبث ہے۔