ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 16

یَوۡمَ ہُمۡ بٰرِزُوۡنَ ۬ۚ لَا یَخۡفٰی عَلَی اللّٰہِ مِنۡہُمۡ شَیۡءٌ ؕ لِمَنِ الۡمُلۡکُ الۡیَوۡمَ ؕ لِلّٰہِ الۡوَاحِدِ الۡقَہَّارِ ﴿۱۶﴾
جس دن وہ صاف ظاہر ہوں گے، ان کی کوئی چیز اللہ پر چھپی نہ ہوگی۔ آج کس کی بادشاہی ہے؟ اللہ ہی کی جو ایک ہے، بہت دبدبے والا ہے۔ En
جس روز وہ نکل پڑیں گے ان کی کوئی چیز خدا سے مخفی نہ رہے گی۔ آج کس کی بادشاہت ہے؟ خدا کی جو اکیلا اور غالب ہے
En
جس دن سب لوگ ﻇاہر ہو جائیں گے، ان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیده نہ رہے گی۔ آج کس کی بادشاہی ہے؟ فقط اللہ واحد و قہار کی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

16۔ جس دن سب لوگ کھلے میدان میں ہوں گے اور ان کی کوئی بات بھی اللہ سے چھپی نہ رہے گی (اور پوچھا جائے گا کہ) آج حکومت کس [21] کی ہے؟ (پھر خود ہی فرمائے گا:) اللہ اکیلے کی جو سب پر غالب ہے
[21] قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالیٰ کا دنیا کے بادشاہوں سے خطاب :۔
قیامت کے دن ایک وقت ایسا آئے گا جب ہر ایک کو اپنی اپنی ہی پڑی ہو گی۔ سب قیامت کی ہولناکیوں سے دہشت زدہ ہوں گے کسی کو کلام کرنے کی نہ فرصت ہو گی اور نہ جرأت۔ ہر طرف مکمل سکوت اور سناٹا چھایا ہو گا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ سب کو مخاطب کر کے پوچھے گا۔ آج دنیا کے بادشاہ کہاں ہیں؟ جابر کہاں ہیں اور متکبرین کہاں ہیں؟ بولو! آج کے دن بادشاہی کس کی ہے؟ اس سوال کا کوئی جواب نہ دے گا۔ حتیٰ کہ چالیس برس ایسے ہی سناٹے میں گزر جائیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ خود ہی اس سوال کا جواب دیں گے کہ آج بادشاہی صرف اکیلے اللہ کی ہے۔ جو ہر چیز کو دبا کے رکھے ہوئے ہے۔