ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النساء (4) — آیت 89

وَدُّوۡا لَوۡ تَکۡفُرُوۡنَ کَمَا کَفَرُوۡا فَتَکُوۡنُوۡنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوۡا مِنۡہُمۡ اَوۡلِیَآءَ حَتّٰی یُہَاجِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَخُذُوۡہُمۡ وَ اقۡتُلُوۡہُمۡ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمۡ ۪ وَ لَا تَتَّخِذُوۡا مِنۡہُمۡ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا ﴿ۙ۸۹﴾
وہ چاہتے ہیں کاش کہ تم کفر کرو جیسے انھوں نے کفر کیا، پھر تم برابر ہو جائو، سو تم ان میں سے کسی طرح کے دوست نہ بنائو، یہاں تک کہ وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کریں، پھر اگر وہ منہ پھیریں تو انھیں پکڑو اور انھیں قتل کرو جہاں انھیں پائو اور نہ ان سے کوئی دوست بنائو اور نہ کوئی مددگار۔ En
وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں (اسی طرح) تم بھی کافر ہو کر (سب) برابر ہوجاؤ تو جب تک وہ خدا کی راہ میں وطن نہ چھوڑ جائیں ان میں سے کسی کو دوست نہ بنانا اگر (ترک وطن کو) قبول نہ کریں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو اور ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ بناؤ
En
ان کی تو چاہت ہے کہ جس طرح کے کافر وه ہیں تو بھی ان کی طرح کفر کرنے لگو اور پھر سب یکساں ہو جاؤ، پس جب تک یہ اسلام کی خاطر وطن نہ چھوڑیں ان میں سے کسی کو حقیقی دوست نہ بناؤ، پھر اگر یہ منھ پھیر لیں تو انہیں پکڑو اور قتل کرو جہاں بھی یہ ہاتھ لگ جائیں، خبردار! ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ سمجھ بیٹھنا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

89۔ وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی ویسے ہی کافر ہو جاؤ جیسے وہ خود ہوئے ہیں تاکہ سب برابر ہو جائیں۔ لہذا ان میں سے کسی کو آپ دوست نہ بناؤ تا آنکہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت [123] کر کے نہ آ جائیں اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو جہاں انہیں پاؤ انہیں پکڑو اور قتل کرو۔ اور ان میں سے کسی کو بھی آپ نا دوست یا مددگار نہ بناؤ
[123] مدینہ کے پاس کے منافقین ان کی اقسام:۔
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ منافقوں کی ایک قسم ایسی بھی تھی جو مدینہ کے اردگرد پھیلے ہوئے قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ لوگ مسلمانوں سے خیر خواہی اور محبت کا اظہار ضرور کرتے تھے مگر عملی طور پر اپنے ہم وطن کافروں کا ساتھ دیتے تھے یا دینے پر مجبور تھے ان کے لیے معیار یہ مقرر کیا گیا کہ اگر وہ ہجرت کر کے تمہارے پاس مدینہ آجائیں اور تمہارے ساتھ شامل ہو جائیں تو اس صورت میں تم انہیں سچا بھی سمجھو اور اپنا ہمدرد بھی۔ اور اگر وہ اسلام کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑنے کی قربانی دینے پر تیار نہیں حالانکہ وہ ایسا کر سکتے ہیں تو تم ان پر ہرگز اعتماد نہ کرو نہ انہیں اپنا دوست بناؤ اور نہ سمجھو اور اگر ایسے لوگ کافروں کے ساتھ تمہارے خلاف صف بستہ ہو جاتے ہیں تو انہیں قتل کرنے سے ہرگز دریغ نہ کرو۔