ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النساء (4) — آیت 65

فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَ یُسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا ﴿۶۵﴾
پس نہیں! تیرے رب کی قسم ہے! وہ مومن نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ تجھے اس میں فیصلہ کرنے والا مان لیں جو ان کے درمیان جھگڑا پڑ جائے، پھر اپنے دلوں میں اس سے کوئی تنگی محسوس نہ کریں جو تو فیصلہ کرے اور تسلیم کرلیں، پوری طرح تسلیم کرنا۔ En
تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے
En
سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں اور کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

65۔ (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !) تمہارے پروردگار کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے تنازعات میں آپ کو حکم (فیصلہ کرنے والا) تسلیم نہ کر لیں پھر آپ جو فیصلہ کریں اس کے متعلق اپنے دلوں میں گھٹن بھی محسوس نہ کریں اور اس فیصلہ پر پوری [97] طرح سر تسلیم خم کر دیں۔
[97] یہ سابقہ آیات کا تتمہ ہے جس میں ایک مستقل قانون دیا گیا ہے جو صرف مقدمہ کے منافق کے لیے ہی نہیں بلکہ ساری امت کے لیے ہے اور قیامت تک کے لیے ہے اور وہ یہ ہے کہ جو مسلمان آپ کے ارشاد، حکم یا فیصلہ کو بدل و جان قبول کر لینے اور اس کے آگے سر تسلیم خم کر دینے پر آمادہ نہیں ہوتا وہ سرے سے مسلمان ہی نہیں ہو سکتا۔ اور آپ کے ارشادات، احکام اور فیصلے سب کچھ کتب احادیث میں مذکور ہو چکے ہیں۔ اب جو شخص ان کے مقابلہ میں کسی اور شخص، عالم، پیر یا امام کے قول کو ترجیح دے گا وہ بھی اس حکم میں داخل ہے۔ یہ آیت بھی امت کے تمام اختلافات اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے میں ہماری رہنما اور کسوٹی ہے۔ اس آیت سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ کتاب و سنت کی موجودگی میں قیاس کرنا حرام ہے۔ اس مضمون کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ”کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنی خواہشات کو اس چیز کے تابع نہ بنا دے جو میں لے کر آیا ہوں۔“
[شرح السنۃ بحوالہ مشکوٰۃ، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ فصل ثانی]
اور بالخصوص اس آیت کا شان نزول کتب احادیث میں درج ذیل مذکور ہے:
اختلافات کے خاتمہ کا واحد حل رسول اللہﷺ کی اتباع کا جواب:۔
سیدنا عروہ بن زبیرؓ روایت کرتے ہیں کہ زبیرؓ (میرے باپ) اور ایک انصاری میں حرہ میں واقع پانی کی نالی پر جھگڑا ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیرؓ کو کہا ”تم اپنے درختوں کو پانی پلا لو پھر اسے اپنے ہمسایہ کے باغ میں جانے دو۔“ یہ سن کر وہ انصاری کہنے لگا ”کیوں نہیں آخر زبیر آپ کی پھوپھی کا بیٹا جو ہوا۔“ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ متغیر ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیرؓ کو کہا ”زبیر! اپنے کھیت کو پانی پلاؤ اور جب تک پانی منڈیروں تک نہ پہنچ جائے اس کے لیے پانی نہ چھوڑو۔“ یعنی جب انصاری نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ دلایا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر کو اس کا پورا حق دلایا۔ جبکہ آپ کے پہلے حکم میں دونوں کی رعایت ملحوظ تھی۔ زبیرؓ کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی مقدمہ میں نازل ہوئی۔
[بخاری، کتاب التفسیر و کتاب المساقاۃ، باب سکر الانہار۔۔ مسلم، کتاب الفضائل باب وجوب اتباعہ]