ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النساء (4) — آیت 63

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُ اللّٰہُ مَا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ٭ فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ وَ عِظۡہُمۡ وَ قُلۡ لَّہُمۡ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ قَوۡلًۢا بَلِیۡغًا ﴿۶۳﴾
یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، سو تو ان سے دھیان ہٹا لے اور انھیں نصیحت کر اور ان سے ایسی بات کہہ جو ان کے دلوں میں بہت اثر کرنے والی ہو۔ En
ان لوگوں کے دلوں میں جو کچھ ہے خدا اس کو خوب جانتا ہے تم ان (کی باتوں) کو کچھ خیال نہ کرو اور انہیں نصیحت کرو اور ان سے ایسی باتیں کہو جو ان کے دلوں میں اثر کر جائیں
En
یہ وه لوگ ہیں کہ ان کے دلوں کا بھید اللہ تعالیٰ پر بخوبی روشن ہے، آپ ان سے چشم پوشی کیجئے، انہیں نصیحت کرتے رہیئے اور انہیں وه بات کہئے! جو ان کے دلوں میں گھر کرنے والی ہو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

63۔ ایسے لوگوں کے دلوں [95] میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ اسے خوب جانتا ہے سو آپ ان سے اعراض کیجئے [96] اور نصیحت کیجئے اور ایسی بات کہئے جو ان کے دلوں میں اتر جائے
[95] مگر اللہ تعالیٰ نے منافق کے وارثوں کی اس چال سے آپ کو مطلع کر دیا اس طرح اللہ تعالیٰ نے قصاص کے مقدمہ کو یہ آیات نازل فرما کر خارج کر دیا کہ جو لوگ اپنے مالی یا جانی مقدمات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دل و جان سے حکم تسلیم نہیں کرتے وہ فی الحقیقت مومن ہی نہیں ہیں لہٰذا قصاص کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جیسا کہ اس سے آگے آ رہا ہے۔ سیدنا عمرؓ کے اس فیصلہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فاروق کا لقب عطا فرمایا۔
[96] یعنی آپ ان منافقوں کی قطعاً پروا نہ کیجئے البتہ انہیں دل نشین انداز میں وعظ و نصیحت کرتے رہیے اور انہیں یہ سمجھائیے کہ اللہ تعالیٰ اپنا رسول بھیجتا ہی اس لیے ہے کہ اس کے حکم کی اطاعت کی جائے اور اسی کو دل و جان سے حکم تسلیم کیا جائے۔ اور جب وہ کوئی غلطی یا زیادتی کر بیٹھے تھے تو انہیں چاہیے تھا کہ آپ کے پاس آ کر اللہ سے معافی مانگتے اور آپ بھی ان کے لیے معافی مانگتے تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ کو قبول فرما لیتا۔