ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النساء (4) — آیت 55

فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ بِہٖ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ صَدَّ عَنۡہُ ؕ وَ کَفٰی بِجَہَنَّمَ سَعِیۡرًا ﴿۵۵﴾
پھر ان میں سے کوئی وہ ہے جو اس پر ایمان لے آیا اور کوئی وہ ہے جو اس سے منہ موڑ گیا اور جلانے کے لیے جہنم ہی کافی ہے۔ En
پھر لوگوں میں سے کسی نے تو اس کتاب کو مانا اور کوئی اس سے رکا (اور ہٹا) رہا تو نہ ماننے والوں (کے جلانے) کو دوزخ کی جلتی ہوئی آگ کافی ہے
En
پھر ان میں سے بعض نے تو اس کتاب کو مانا اور بعض اس سے رک گئے، اور جہنم کا جلانا کافی ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

55۔ پھر ان میں سے کوئی تو ایمان لے آیا [87] اور کوئی اس سے رکا رہا۔ ایسے باز رہنے والوں کو بھڑکتی ہوئی جہنم ہی کافی ہے
[87] اس آیت کے بھی دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اسحاقؑ کی اولاد میں سے جو انبیاء مبعوث ہوتے رہے ہیں ان سب پر بھی یہود ایمان نہیں لائے تھے، بہت سے انبیاء کا انکار کر دیا اور بہت سے نبیوں کو قتل بھی کر دیا۔ اس لحاظ سے اس آیت کے مخاطب صرف یہود ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر بنو اسحاق کی بجائے آل ابراہیم ہی سمجھا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے تو بنو اسماعیل تھے اور انکار کرنے والے بنو اسحاق یعنی یہود و نصاریٰ وغیرہ۔ بہرحال جو بھی انبیاء کی دعوت سے انکار کرتا رہا یا دوسروں کو روکتا رہا اس کو لازماً عذاب اخروی سے دو چار ہونا پڑے گا اور اپنے اپنے جرائم کے مطابق اسے سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔ یہ لوگ دنیا میں حسد کی آگ میں جلتے رہے اور آخرت میں جہنم کی آگ میں جلتے رہیں گے۔