ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النساء (4) — آیت 31

اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا کَبَآئِرَ مَا تُنۡہَوۡنَ عَنۡہُ نُکَفِّرۡ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ وَ نُدۡخِلۡکُمۡ مُّدۡخَلًا کَرِیۡمًا ﴿۳۱﴾
اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچو گے جن سے تمھیں منع کیاجاتا ہے تو ہم تم سے تمھاری چھوٹی برائیاں دور کر دیں گے اور تمھیں با عزت داخلے کی جگہ میں داخل کریں گے۔ En
اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے اجتناب رکھو گے تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے) گناہ معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کے مکانوں میں داخل کریں گے
En
اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہوگے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناه دور کر دیں گے اور عزت وبزرگی کی جگہ داخل کریں گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

31۔ جن بڑے بڑے گناہ کے کاموں سے تمہیں [52] منع کیا گیا ہے اگر تم ان سے بچتے رہے تو ہم تمہاری (چھوٹی موٹی) برائیوں کو تم سے (تمہارے حساب سے) محو کر دیں [53] گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے
[52] کبیرہ گناہ کون کون سے ہوتے ہیں:۔
احادیث میں جن کبیرہ گناہوں کا ذکر آیا ہے وہ درج ذیل ہیں:
1۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔“ صحابہ نے پوچھا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون کون سے ہیں؟ فرمایا ”شرک باللہ، جادو، ایسی جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے، سود، یتیم کا مال کھانا، میدان جنگ سے فرار، پاکباز بھولی بھالی مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔“
[مسلم، کتاب الایمان۔ باب بیان الکبائر و اکبرہا) (بخاری، کتاب المحاربین من اہل الکفرۃ والردۃ۔ باب رمی المحصنات]
2۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ”اللہ کے نزدیک کونسا گناہ بڑا ہے؟“ فرمایا ”یہ کہ تو کسی اور کو اللہ کے برابر کر دے حالانکہ اللہ ہی نے تجھے پیدا کیا۔“ میں نے عرض کیا ”یہ تو واقعی بڑا گناہ ہے اس کے بعد کون سا گناہ بڑا ہے؟“ فرمایا ”تو اولاد کو اس ڈر سے مار ڈالے کہ اسے کھلانا پڑے گا۔“ میں نے پوچھا ”پھر کون سا گناہ بڑا ہے؟“ فرمایا ”یہ کہ تو ہمسایہ کی بیوی سے زنا کرے۔“
[بخاری، کتاب التفسیر۔ باب: ﴿فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا]
3۔ سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کیا تو فرمایا ”بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ناحق خون کرنا، والدین کو ستانا۔“ پھر فرمایا ”کیا میں تمہیں بڑے سے بڑا گناہ نہ بتاؤں قول الزور، (جھوٹ کو ہیرا پھیری سے سچ بنانا) یا ایسی ہی جھوٹی گواہی دینا۔
[بخاری، کتاب الادب۔ باب عقوق الوالدین من الکبائر]
الغرض کبائر کی فہرست بڑی طویل ہے۔ کبائر معلوم کرنے کے لیے درج ذیل باتوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے:
1۔ بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں جو موقع و محل کے لحاظ سے مزید شدت اختیار کر جاتے ہیں۔ مثلاً لوگوں کا مال نا جائز طریقے سے کھانا کبیرہ گناہ ہے مگر یتیم کا مال کھانا اور بھی بڑا گناہ ہے یا داؤ فریب سے مال بیچنا گناہ ہے مگر جھوٹی قسم کھا کر مال بیچنا اور بڑا گناہ بن جاتا ہے۔ عام عورتوں پر تہمت لگانا بھی بڑا گناہ ہے مگر بھولی بھالی انجان عورتوں پر تہمت لگانا مزید شدت اختیار کرجاتا ہے، اولاد کا قتل بڑا گناہ ہے مگر مفلسی کے ڈر سے اولاد کا قتل اور بھی بڑا گناہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح زنا ایک کبیرہ گناہ ہے مگر جب یہ زنا اپنی ماں، بیٹی، بہن یا دیگر محرمات سے کیا جائے تو گناہ مزید شدید ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر شادی شدہ عورت یا مرد زنا کرے گا تو یہ گناہ کنوارے مرد یا عورت سے زیادہ شدید ہو جائے گا۔ ایسے ہی ہمسایہ کی بیوی سے زنا کرنا کسی دوسری عورت سے زنا کرنے کی بہ نسبت شدید ہو گا۔ یا بوڑھے آدمی کا زنا کرنا جوان آدمی کے زنا کرنے کی نسبت زیادہ شدید ہو گا اور اگر بوڑھا زانی اپنے ہمسایہ کی بیوی سے زنا کرے تو کسی دوسری عورت سے زنا کرنے کی بہ نسبت اس کا گناہ تین گنا بڑھ جائے گا۔ یہی صورت باقی گناہوں کی ہوتی ہے۔
2۔ کسی چھوٹے گناہ کو حقیر سمجھتے ہوئے اسے مسلسل کرتے جانا بھی اسے کبیرہ گناہ بنا دیتا ہے۔
3۔ جس گناہ کے کام کے بعد کرنے والے پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت کا ذکر ہو۔ یا صرف اللہ کی یا صرف رسول کی لعنت کا ذکر ہو وہ بھی حسب مراتب کبیرہ گناہ ہوتا ہے۔
4۔ جس گناہ کی بابت یہ ذکر ہو کہ قیامت کے دن اللہ اس کی طرف دیکھے گا بھی نہیں یا اس سے کلام نہ کرے گا یا اس پر غصے ہو گا۔ وہ بھی کبیرہ گناہ ہو گا۔
[53] یعنی بڑے گناہوں سے اجتناب کے بعد چھوٹے گناہ اللہ ویسے ہی معاف کر دے گا اور جواب طلبی نہیں کرے گا۔ لیکن اگر بڑے گناہوں سے اجتناب نہ کیا جائے تو ساتھ ہی ساتھ چھوٹے گناہوں کا بھی مواخذہ ہو گا۔ واضح رہے کہ سورۃ نجم کی آیت نمبر 32 میں بھی یہی مضمون بیان کیا گیا ہے اور وہاں سیئات کی بجائے اللمم کا لفظ آیا ہے اور اس کا معنیٰ بھی چھوٹے گناہ ہیں۔ سیدنا ابن عباسؓ کی وضاحت کے مطابق سیئات یا لمم سے مراد وہ چھوٹے گناہ ہیں جو کسی بڑے گناہ کا سبب بنتے ہیں۔ مثلاً حدیث میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آنکھ کا زنا ہے، کان کا بھی، زبان کا بھی اور ہاتھ پاؤں کا بھی۔ پھر فرج یا ان کی تصدیق کر دیتا ہے یا تکذیب“ [بخاري، كتاب الاستيذان، باب زنا الجوارح دون الفرج] گویا آنکھ کا زنا غیر محرم کی طرف دیکھنا، پاؤں کا اس کے پاس چل کر جانا، زبان کا اس سے شہوانی گفتگو کرنا، نفس کا زنا کی خواہش کرنا ہے۔ اب اگر زنا اس سے صادر ہو جاتا ہے تو باقی چھوٹے گناہ بھی برقرار رہیں گے اور اگر بچ جاتا ہے تو یہ چھوٹے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے بشرطیکہ وہ نیک اعمال بھی بجا لانے والا ہو تو ان نیک اعمال کی وجہ سے یہ چھوٹے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔