ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النساء (4) — آیت 171

یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ وَ لَا تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الۡحَقَّ ؕ اِنَّمَا الۡمَسِیۡحُ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ رَسُوۡلُ اللّٰہِ وَ کَلِمَتُہٗ ۚ اَلۡقٰہَاۤ اِلٰی مَرۡیَمَ وَ رُوۡحٌ مِّنۡہُ ۫ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ۚ۟ وَ لَا تَقُوۡلُوۡا ثَلٰثَۃٌ ؕ اِنۡتَہُوۡا خَیۡرًا لَّکُمۡ ؕ اِنَّمَا اللّٰہُ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ؕ سُبۡحٰنَہٗۤ اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہٗ وَلَدٌ ۘ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیۡلًا ﴿۱۷۱﴾٪
اے اہل کتاب! اپنے دین میں حد سے نہ گزرو اور اللہ پر مت کہو مگر حق۔ نہیں ہے مسیح عیسیٰ ابن مریم مگر اللہ کا رسول اور اس کا کلمہ، جو اس نے مریم کی طرف بھیجا اور اس کی طرف سے ایک روح ہے۔ پس اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائو اور مت کہو کہ تین ہیں، باز آجائو، تمھارے لیے بہتر ہوگا۔ اللہ تو صرف ایک ہی معبود ہے، وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ بطور وکیل کافی ہے۔ En
اے اہل کتاب اپنے دین (کی بات) میں حد سے نہ بڑھو اور خدا کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ مسیح (یعنی) مریم کے بیٹے عیسیٰ (نہ خدا تھے نہ خدا کے بیٹے بلکہ) خدا کے رسول اور کا کلمہٴ (بشارت) تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح تھے تو خدا اوراس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور (یہ) نہ کہو (کہ خدا) تین (ہیں۔ اس اعتقاد سے) باز آؤ کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ خدا ہی معبود واحد ہے اور اس سے پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور خدا ہی کارساز کافی ہے
En
اے اہل کتاب! اپنے دین کے بارے میں حد سے نہ گزر جاؤ اور اللہ پر بجز حق کے اور کچھ نہ کہو، مسیح عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) تو صرف اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس کے کلمہ (کن سے پیدا شده) ہیں، جسے مریم (علیہا السلام) کی طرف ڈال دیا تھا اور اس کے پاس کی روح ہیں اس لئے تم اللہ کو اور اس کے سب رسولوں کو مانو اور نہ کہو کہ اللہ تین ہیں، اس سے باز آجاؤ کہ تمہارے لئے بہتری ہے، اللہ عبادت کے ﻻئق تو صرف ایک ہی ہے اور وه اس سے پاک ہے کہ اس کی اوﻻد ہو، اسی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور اللہ کافی ہے کام بنانے واﻻ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

171۔ اے اہل کتاب! اپنے دین میں غلو [1224] نہ کرو۔ اور اللہ کی نسبت وہی بات کہو جو حق ہو۔ مسیح عیسیٰ ابن مریم صرف اللہ کے رسول اور اس کا کلمہ [225] تھے۔ جسے اللہ نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور وہ اس کی طرف سے ایک روح تھے، سو تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور یہ نہ کہو کہ (خدا) تین [226] ہیں۔ اس بات سے [227] باز آ جاؤ، یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔ صرف اللہ اکیلا ہی الٰہ ہے۔ وہ اس بات سے پاک ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ [228] اور اللہ اکیلا ہی (کائنات کا) نظام چلانے کے لیے کافی ہے
[224] غلو کیا ہے:۔
غلو کا معنیٰ ایسا مبالغہ ہے جو غیر معقول ہو۔ خواہ یہ مبالغہ افراط کی جانب ہو یا تفریط کی جانب۔ جیسے عیسیٰ کے متعلق نصاریٰ کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ کے بیٹے تھے اور اس کے بالکل برعکس یہود کا یہ عقیدہ کہ وہ نبی نہ تھے بلکہ یہود (معاذ اللہ) انہیں ولد الحرام سمجھتے تھے۔ اسی بنا پر انہوں نے آپ کو سولی پر چڑھانے میں اپنی کوششیں صرف کر دیں۔ گویا ایک ہی رسول کے بارے میں غلو کی بنا پر اہل کتاب کے دونوں بڑے فرقے گمراہ ہو گئے۔ امت محمدیہ میں غلو کی مثالوں کے لیے سورۃ فرقان کا حاشیہ نمبر 3 ملاحظہ کیجئے۔
[225] الوہیت مسیح کا عقیدہ:۔
یہ خطاب نصاریٰ کو ہے جنہوں نے سیدنا عیسیٰؑ کو کبھی خدا کا بیٹا قرار دیا اور کبھی تین خداؤں میں سے تیسرا خدا قرار دیا حالانکہ انجیل میں عیسیٰؑ کی معجزانہ پیدائش کے متعلق وہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو قرآن میں استعمال ہوئے ہیں۔ یعنی عیسیٰ اللہ کا کلمہ تھے اور اس کی طرف سے روح تھے۔ پھر جب عیسائیت پر فلسفیانہ اور راہبانہ خیالات و نظریات غالب آنے لگے تو لفظ کلمہ کو جو فرمان الٰہی یا لفظ کن کا ہم معنی تھا، کلام کا ہم معنی قرار دے کر اسے اللہ تعالیٰ کی ازلی صفات میں سے سمجھا گیا۔ اور یہ سمجھا گیا کہ اللہ کی یہ ازلی صفت ہی سیدہ مریمؑ کے بطن میں متشکل ہو کر عیسیٰؑ کی صورت میں نمودار ہوئی۔ اور ”اس کی طرف سے روح“ کا معنی یہ سمجھا گیا کہ اللہ کی روح ہی عیسیٰ کے جسم میں حلول کر گئی تھی اس طرح عیسیٰ کو اللہ کا ہی مظہر قرار دے دیا گیا اور ان غلط عقائد کو پذیرائی اس لیے حاصل ہوئی کہ عیسیٰ کو جو جو معجزات دیئے گئے تھے ان سے ان کے عقائد کی تائید ہو جاتی تھی۔ حالانکہ بے شمار ایسی باتیں بھی موجود تھیں جن سے ان کے عقائد کی پر زور تردید ہوتی تھی۔ مثلاً انجیل میں صرف ایک اللہ کے الٰہ ہونے پر بہت زور دیا گیا ہے۔ نیز سیدنا عیسیٰؑ اور ان کی والدہ دونوں مخلوق اور حادث تھے۔ وہ دونوں کھانا کھاتے تھے اور انہیں وہ تمام بشری عوارضات لاحق ہوتے تھے جو سب انسانوں کو لاحق ہوتے ہیں۔ پھر عیسیٰؑ اپنی ذات کو سولی پر چڑھنے اور ایسی ذلت کی موت سے بچا نہ سکے تو وہ خدا کیسے ہو سکتے تھے۔ پھر سیدنا عیسیٰؑ اور ان کی والدہ دونوں خود بھی ایک اللہ کی عبادت کرتے رہے اور دوسروں کو بھی یہی تعلیم دیتے رہے یہ سب باتیں ان کی خدائی کی پر زور تردید کرتی ہیں۔
[226] عقیدہ تثلیث کی پیچیدگی:۔
عیسائیوں کا عقیدہ تثلیث ایسا گورکھ دھندا ہے جس کو وہ خود بھی دوسرے کو سمجھا نہیں سکتے اور وہ عقیدہ یہ ہے کہ خدا، عیسیٰ اور روح القدس تینوں خدا ہیں اور یہ تینوں خدا مل کر بھی ایک ہی خدا بنتے ہیں یعنی وہ توحید کو تثلیث میں اور تثلیث کو توحید میں یوں گڈ مڈ کرتے ہیں کہ انسان سر پیٹ کے رہ جائے اور پھر بھی اسے کچھ اطمینان حاصل نہ ہو۔ مثلاً وہ اس کی مثال یہ دیتے ہیں کہ ایک پیسہ میں تین پائیاں ہوتی ہیں اور یہ تینوں مل کر ایک پیسہ بنتی ہیں۔ اس پر یہ اعتراض ہوا کہ جب سیدہ مریمؑ اور عیسیٰؑ پیدا ہی نہ ہوئے تھے تو کیا خدا نامکمل تھا اور اگر نامکمل تھا تو یہ کائنات وجود میں کیسے آگئی۔ اور اس پر فرماں روائی کس کی تھی؟ غرض اس عقیدہ کی اس قدر تاویلیں پیش کی گئیں جن کی بنا پر عیسائی بیسیوں فرقوں میں بٹ گئے۔ پھر بھی ان کا یہ عقیدہ «لا ينحل» ہی رہا اور «لا ينحل» ہی رہے گا۔
[227] صفات الٰہی میں موشگافیاں:۔
یعنی تین خدا کہنے سے باز آ جاؤ یا صفات الٰہی میں فلسفیانہ اور راہبانہ موشگافیاں کرنے سے باز آجاؤ کیونکہ جس نے بھی صفات الٰہی میں کرید شروع کی ہے وہ گمراہ ہی ہوا ہے۔ واضح رہے کہ صفات الٰہی سے متعلقہ آیات متشابہات سے تعلق رکھتی ہیں جن کے متعلق یہ حکم ہے کہ ان کے پیچھے نہ پڑنا چاہیے۔ کیونکہ ان پر نہ اوامر و نواہی کا دار و مدار ہوتا ہے اور نہ حلت و حرمت کا، نہ ہی انسانی ہدایت سے ان کا کچھ تعلق ہوتا ہے۔ لہٰذا انہیں جوں کا توں ہی تسلیم کر لینا چاہیے کہ یہ بھی اللہ ہی کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔ نیز ایسی آیات کے پیچھے وہی لوگ پڑتے ہیں جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہوتی ہے۔ لہٰذا اے گروہ نصاریٰ! تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ وحی الٰہی کو جوں کا توں مان لو اور ان کی موشگافیوں سے باز آجاؤ اور وحی الٰہی یہی ہے کہ صرف اللہ اکیلا ہی الٰہ ہے، اسے کسی بیٹی بیٹے کی کوئی ضرورت نہیں اور وہ ایسی باتوں سے پاک و صاف ہے۔
[228] یعنی اللہ ہر چیز کا مالک ہے اور ہر چیز اس کی مملوک ہے اور اولاد مملوک نہیں ہوتی بلکہ ہمسر ہوتی ہے۔ لہٰذا ان دونوں باتوں میں سے ایک ہی بات صحیح ہو سکتی ہے۔ اگر وہ مملوک ہے تو بیٹا نہیں اور اگر بیٹا ہے تو مملوک نہیں۔ علاوہ ازیں جب عیسیٰؑ کی پیدائش سے پہلے بھی اللہ اکیلا ہی کائنات کا پورا نظام چلا رہا تھا تو پھر اسے بیٹا بنانے کی ضرورت کیا پیش آئی، لہٰذا کچھ تو عقل سے کام لو۔