ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النساء (4) — آیت 134

مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ ثَوَابَ الدُّنۡیَا فَعِنۡدَ اللّٰہِ ثَوَابُ الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا ﴿۱۳۴﴾٪
جو شخص دنیا کا بدلہ چاہتا ہو تو اللہ ہی کے پاس دنیا اور آخرت کا بدلہ ہے اور اللہ ہمیشہ سے سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ En
جو شخص دنیا (میں عملوں) کی جزا کا طالب ہو تو خدا کے پاس دنیا اور آخرت (دونوں) کے لئے اجر (موجود) ہیں۔ اور خدا سنتا دیکھتا ہے
En
جو شخص دنیا کا ﺛواب چاہتا ہو تو (یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ کے پاس تو دنیا اور آخرت (دونوں) کا ﺛواب موجود ہے اور اللہ تعالیٰ بہت سننے واﻻ اور خوب دیکھنے واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

134۔ جو شخص دنیا کے بدلہ کا ارادہ رکھتا ہے تو اللہ کے ہاں تو دنیا کا بدلہ بھی ہے اور آخرت کا بھی۔ [177] اور اللہ سب کچھ سننے والا دیکھنے والا ہے
[177] دنیا و آخرت دونوں کا مطالبہ کیوں؟
یعنی اللہ کے ہاں تو سب کچھ موجود ہے۔ اب یہ ہر انسان کا اپنا اپنا ظرف ہے۔ اگر وہ دنیا کے فائدے ہی چاہتا ہے اور دنیا میں ہی مگن ہو گیا ہے تو اسے دنیا کے فائدے حاصل ہو جائیں گے اور جو آخرت کی بھلائی بھی چاہتا ہے اسے یقیناً آخرت میں اجر و ثواب ملے گا۔ اور اس کے علاوہ دنیا کے فائدوں میں سے بھی جو کچھ اس کے مقدر ہو چکا ہے وہ اسے مل کر رہے گا، لہٰذا عقلمند اور صاحب ظرف انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی تمام تر توجہ آخرت کے اجر و ثواب پر مبذول کرے۔