ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النساء (4) — آیت 133

اِنۡ یَّشَاۡ یُذۡہِبۡکُمۡ اَیُّہَا النَّاسُ وَ یَاۡتِ بِاٰخَرِیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی ذٰلِکَ قَدِیۡرًا ﴿۱۳۳﴾
اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے اے لوگو! اور کچھ دوسروں کو لے آئے اور اللہ ہمیشہ سے اس پر پوری طرح قادر ہے۔ En
لوگو! اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور (تمہاری جگہ) اور لوگوں کو پیدا کردے۔اور خدا اس بات پر قادر ہے
En
اگر اسے منظور ہو تو اے لوگو! وه تم سب کو لے جائے اور دوسروں کو لے آئے، اللہ تعالیٰ اس پرپوری قدرت رکھنے واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

133۔ لوگو! اگر اللہ چاہے تو تمہیں ہٹا کر تمہاری جگہ دوسرے لوگ لا [176] سکتا ہے اور اللہ اس بات پر پوری قدرت رکھتا ہے
[176] اور جو تیسری بار اس جملہ کو دہرایا تو اس کا مدلول مسلمانوں کے مستقبل کے حالات ہیں یعنی اے مسلمانو! اگر تم اللہ کی نافرمانی کرو گے تو اس کے کاموں کا انحصار تمہیں پر نہیں وہ ایسا کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے کہ اس صورت میں کوئی اور قوم آگے لے آئے اور اس کے ہاتھ سے تمہیں پٹوا کر پیچھے دھکیل دے جیسا کہ یہود اللہ کی نافرمانیوں اور بد کرداریوں میں مبتلا ہوئے تو انہیں عیسائیوں کے ہاتھوں پٹوا کر پیچھے دھکیل دیا تھا۔ اور اب تمہارے ہاتھوں ان دونوں کو پٹوا رہا ہے۔ اللہ کو تو اپنے دین کو سربلند کرنا ہے لہٰذا جو لوگ بھی اللہ کے اس مشن کو جاری رکھنے قابل ہوں گے وہ انہی کو آگے لے آئے گا لہٰذا تمہارا مفاد اسی میں ہے کہ تم ہی اس کے فرمانبردار بن کر رہو۔