117۔ یہ مشرکین اللہ کو چھوڑ کر دیویوں [155] کو پکارتے ہیں، حقیقت میں وہ سرکش شیطان [156] ہی کو پکار رہے ہوتے ہیں
[155] مشرکوں میں شرک کی جملہ اقسام پائی جاتی ہیں:۔
شرک کی موٹی موٹی تین اقسام ہیں اور وہ تینوں ہی اس جملہ میں آگئی ہیں مثلاً: (1) شرک فی الذات۔ اس لحاظ سے مشرکین اپنی دیویوں کو اللہ کی بیویاں اور بیٹیاں سمجھتے تھے اور ان دیویوں کے ناموں سے ہی یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے جیسے الٰہ سے لات اور عزیز سے عزی وغیرہ (2) شرک فی الصفات۔ اللہ کی یہ صفت ہے کہ جہاں سے بھی اسے کوئی شخص پکارے وہ اس کی فریاد سنتا ہے اور مشرکین کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ دیویاں ان کی فریاد سنتی ہیں (3) شرک فی العبادت۔ قرآن کی تصریح کے مطابق کسی کو اس عقیدہ سے پکارنا کہ وہ اس کی فریاد سن کر اس کی مشکل دور کر سکتا ہے یا اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے اس کی عین عبادت ہے اور مشرکین بھی ایسا ہی عقیدہ رکھ کر دیویوں کو پکارتے تھے اور یہ صریح شرک ہے۔ نیز وہ اپنی دیویوں کے سامنے عبادت کے وہ سب مراسم بجا لاتے تھے جو صرف اللہ کے لیے سزا وار ہیں۔
[156] ابلیس کا انسانوں کو گمراہ کرنے کا دعویٰ:۔
شیطان کو پکارنا اس لحاظ سے ہے کہ انسان کو شرک کی جتنی راہیں سجھائی ہیں سب شیطان ہی نے سجھائی ہیں۔ گویا ایسا عقیدہ رکھ کر خواہ کسی کو بھی پکارا جائے وہ پکار بھی شیطانی ہے اور شیطان ہی کو پکارنے کے مترادف ہے اگرچہ سب لوگ شیطان کو اللہ کا باغی اور سرکش سمجھ کر ظاہری طور پر گالیاں ہی دیتے ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔