وہ لوگوں سے چھپائو کرتے ہیں اور اللہ سے چھپائو نہیں کرتے، حالانکہ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ رات کو اس بات کا مشورہ کرتے ہیں جسے وہ پسند نہیں کرتا اور اللہ ہمیشہ اس کا جو وہ کرتے ہیں، احاطہ کرنے والا ہے۔
En
یہ لوگوں سے تو چھپتے ہیں اور خدا سے نہیں چھپتے حالانکہ جب وہ راتوں کو ایسی باتوں کے مشورے کیا کرتے ہیں جن کو وہ پسند نہیں کرتا ان کے ساتھ ہوا کرتا ہے اور خدا ان کے (تمام) کاموں پر احاطہ کئے ہوئے ہے
وه لوگوں سے تو چھﭗ جاتے ہیں، (لیکن) اللہ تعالیٰ سے نہیں چھﭗ سکتے، وه راتوں کے وقت جب کہ اللہ کی ناپسندیده باتوں کے خفیہ مشورے کرتے ہیں اس وقت بھی اللہ ان کے پاس ہوتا ہے، ان کے تمام اعمال کو وه گھیرے ہوئے ہے
En
108۔ وہ لوگوں سے تو (اپنی حرکات) چھپا سکتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں چھپا سکتے۔ اور جب وہ رات کو ایسی باتوں [147] کا مشورہ کرتے ہیں جو اللہ کو نہ پسند ہیں تو اس وقت وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور اللہ تو جو کچھ بھی وہ کرتے ہیں ان سب چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے
[147] زرہ کا چور در اصل سچا مسلمان نہیں بلکہ منافق آدمی تھا اور اس کے خاندان والے بھی کچھ پختہ ایمان والے نہ تھے۔ جب یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں چلا گیا تو ان لوگوں کے مشورے کا موضوع یہ ہوتا تھا کہ چور کس طرح چوری کے اس جرم سے بچ سکتا ہے اور یہ جرم اس یہودی کے سر کیسے تھوپا جائے۔ در اصل اس طرح راتوں کو مشورے کرنا اور یہ سمجھنا کہ اس طرح ان کے جرم پر پردہ پڑا رہے گا، یہی ان لوگوں کے ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے اور اللہ سے کوئی معاملہ بھلا کیسے چھپا رہ سکتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔