ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النساء (4) — آیت 107

وَ لَا تُجَادِلۡ عَنِ الَّذِیۡنَ یَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ کَانَ خَوَّانًا اَثِیۡمًا ﴿۱۰۷﴾ۚۙ
اور ان لوگوں کی طرف سے جھگڑا نہ کر جو اپنی جانوں سے خیانت کرتے ہیں، یقینا اللہ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو ہمیشہ بہت خائن، سخت گناہ گار ہو۔ En
اور لوگ اپنے ہم جنسوں کی خیانت کرتے ہیں ان کی طرف سے بحث نہ کرنا کیونکہ خدا خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا
En
اور ان کی طرف سے جھگڑا نہ کرو جو خود اپنی ہی خیانت کرتے ہیں، یقیناً دغا باز گنہگار اللہ تعالیٰ کو اچھا نہیں لگتا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

107۔ اور نہ ہی آپ کو ان لوگوں کی حمایت میں جھگڑنا چاہئے جو آپ نے آپ سے خیانت [146] کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والے مجرموں کو پسند نہیں کرتا
[146] ان لوگوں سے مراد وہی چور انصاری کے خاندان کے لوگ ہیں جنہوں نے محض خاندانی تعصب کی بنا پر چور کی حمایت کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چور کے مجرم نہ ہونے کے متعلق قسمیں بھی کھائی تھیں اور سارا الزام بے گناہ یہودی کے سر تھوپ دیا تھا اور مجرم کے گناہ دو تھے، ایک چوری، دوسرے اس یہودی کو مورد الزام ٹھہرانا۔