ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الزمر (39) — آیت 72

قِیۡلَ ادۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ۚ فَبِئۡسَ مَثۡوَی الۡمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۷۲﴾
کہا جائے گا جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ، اس میں ہمیشہ رہنے والے، پس وہ تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔ En
کہا جائے گا کہ دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اس میں رہو گے۔ تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے
En
کہا جائے گا کہ اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ جہاں ہمیشہ رہیں گے، پس سرکشوں کا ٹھکانا بہت ہی برا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

72۔ انہیں کہا جائے گا کہ: جہنم کے دروازوں سے داخل ہو جاؤ تم ہمیشہ اس میں رہو گے۔ تکبر کرنے والوں [92] کے لئے یہ کیسا برا ٹھکانا ہو گا۔
[92] انکار حق کی سب سے بڑی وجہ تکبر :۔
اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قبول حق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر یا اپنا پندار نفس ہوتا ہے۔ حق کو قبول نہ کرنے کی دوسری وجوہ بھی اسی ذیل میں آتی ہیں۔ جیسا کہ ابلیس کا بھی اصل جرم تکبر ہی تھا۔ اگرچہ اس نے بھی اپنے موقف کی حمایت میں کئی دلائل پیش کئے تھے۔ اسی طرح کافر قبول حق سے انکار کی خواہ کئی وجوہ بتائیں۔ اللہ کی آیات کا تمسخر اڑائیں۔ اللہ کے عذاب کو چیلنج کریں ان سب کی تہ میں یہی تکبر یا پندار نفس ہی کام کر رہا ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ سب جرموں سے بڑا جرم ہوا۔ اسی لئے تمام گروہوں کے الگ الگ جرائم کا نام لینے کے لئے صرف اس جرم کا نام لے لیا گیا ہے جو سب گروہوں میں بطور قدر مشترک پایا جاتا ہے۔