اور صور میں پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہوں گے، مر کر گر جائیں گے مگرجسے اللہ نے چاہا، پھر اس میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو اچانک وہ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔
En
اور جب صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمان میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب بےہوش ہو کر گر پڑیں گے مگر وہ جس کو خدا چاہے۔ پھر دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو فوراً سب کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے
اور صور پھونک دیا جائے گا پس آسمانوں اور زمین والے سب بے ہوش ہوکر گر پڑیں گے مگر جسے اللہ چاہے، پھر دوباره صور پھونکا جائے گا پس وه ایک دم کھڑے ہو کر دیکھنے لگ جائیں گے
En
68۔ اور جب صور پھونکا جائے گا تو جو بھی آسمانوں اور زمین میں موجود مخلوق ہے سب بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے مگر جسے [85] اللہ (بچانا) چاہے۔ پھر جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو فوراً سب کے سب اٹھ کر [86] دیکھنے لگیں گے
[85] نفخۂ صور کی بے ہوشی سے کون مستثنیٰ ہو گا؟
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ایسی مخلوق بھی ہو گی جو بے ہوش نہیں ہو گی۔ بعض نے اس استثناء سے چاروں بزرگ فرشتے یعنی جبرائیل، میکائیکل، اسرافیل اور عزرائیل مراد لیے ہیں۔ بعض نے ان میں حاملین عرش کو بھی شامل کیا ہے اور بعض نے انبیاء صلحاء اور شہداء کو بھی۔ لیکن اگلے حاشیہ میں مندرج حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں میں سے کوئی بھی اس بے ہوشی سے نہ بچے گا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بے ہوش ہوں گے تو دوسرے کیسے بچے رہ سکتے ہیں۔ البتہ موسیٰ علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستثنیٰ کیا۔ وہ بھی اس صورت میں کہ شاید وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے ہوں یا بے ہوش ہوئے ہی نہ ہوں۔ اس لئے کہ وہ دنیا میں ایک بار بے ہوش ہو چکے۔ [86] اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ صور دو بار پھونکا جائے گا۔ درج ذیل احادیث اسی آیت کی تفسیر پیش کرتی ہیں:
نفخہ صور دو بار یا تین بار :۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ دونوں نفخۂ صور میں چالیس کا فاصلہ ہو گا۔ لوگوں نے پوچھا:” ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا چالیس دن کا؟“ انہوں نے کہا: ”یہ میں نہیں کہہ سکتا“ پھر لوگوں نے کہا: ”کیا چالیس برس کا؟“ کہنے لگے ”یہ میں نہیں کہہ سکتا“ پھر لوگوں نے کہا: ”کیا چالیس ماہ کا؟“ کہنے لگے: ”یہ میں نہیں کہہ سکتا“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ انسان کا سارا جسم (مٹی میں) گھل جاتا ہے ماسوائے ریڑھ کی ہڈی کے سرے کے۔ (جورائی کے دانہ برابر ہوتی ہے) اسی سے تمام خلقت کو ترکیب دے کر اٹھا کھڑا کیا جائے گا۔ [بخاري۔ كتاب التفسير] 2۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوسری دفعہ صور پھونکنے پر سب سے پہلے میں سر اٹھاؤں گا تو دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش تھامے لٹک رہے ہیں۔ اب میں نہیں جانتا کہ وہ پہلے صور پر بے ہوش ہی نہ ہوں گے یا دوسرے صور پر مجھ سے پہلے ہوش میں آجائیں گے۔ (کیونکہ دنیا میں وہ ایک دفعہ بے ہوش ہو چکے)“ لیکن سورۃ نمل کی آیت 87 میں ایک اور نفخہ کا بھی ذکر آیا ہے۔ جسے سن کر زمین و آسمان کی ساری مخلوق دہشت زدہ ہو جائے گی۔ پھر اس کی بعض احادیث سے بھی تائید ہو جاتی ہے اسی لئے بعض علماء کہتے ہیں کہ نفخہ صور تین بار ہو گا۔ پہلے نفخہ پر صرف گھبراہٹ واقع ہو گی دوسرے نفخہ پر لوگ بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے اور مر جائیں گے۔ اور تیسرے نفخہ پر سب انسان جی اٹھیں گے اور اپنی قبروں سے نکل کر اپنے پروردگار کے حضور چل کھڑے ہوں گے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔