ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الزمر (39) — آیت 60

وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ تَرَی الَّذِیۡنَ کَذَبُوۡا عَلَی اللّٰہِ وُجُوۡہُہُمۡ مُّسۡوَدَّۃٌ ؕ اَلَیۡسَ فِیۡ جَہَنَّمَ مَثۡوًی لِّلۡمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۶۰﴾
اور قیامت کے دن تو دیکھے گا کہ وہ لوگ جنھوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ان کے چہرے سیاہ ہو ں گے، کیا جہنم میں ان متکبروں کے لیے کوئی ٹھکانا نہیں؟ En
اور جن لوگوں نے خدا پر جھوٹ بولا تم قیامت کے دن دیکھو گے کہ ان کے منہ کالے ہو رہے ہوں گے۔ کیا غرور کرنے والوں کو ٹھکانا دوزخ میں نہیں ہے
En
اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ قیامت کے دن ان کے چہرے سیاه ہوگئے ہوں گے کیا تکبر کرنے والوں کاٹھکانا جہنم میں نہیں؟ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

60۔ جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ بولا تھا! [77] قیامت کے دن آپ دیکھ لیں گے کہ ان کے چہرے سیاہ ہو رہے ہوں گے۔ کیا جہنم میں تکبر کرنے والوں [78] کا ٹھکانا نہیں؟
[77] اللہ پر افترا کی صورتیں :۔
اللہ پر جھوٹ بولنے کی ایک صورت یہ ہے کہ اللہ نے اپنے فلاں فلاں معبودوں یا بتوں یا پیاروں کو فلاں فلاں اختیارات سونپ رکھے ہیں۔ لہٰذا رزق کے لئے فلاں کے پاس اور اولاد کے لئے فلاں درگاہ پر اور شفا کے لئے فلاں آستانے پر حاضری دینے سے مراد حاصل ہو جاتی ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ اللہ کی آیات اور اس کے رسول کو جھٹلایا جائے اور کہا جائے کہ اللہ نے تو کوئی چیز نازل نہیں کی۔ حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ تھی۔
[78] ان کے جھٹلانے کی سزا یہ ہے کہ ان کے منہ کالے کر دیئے جائیں گے جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ ’جھوٹے کا منہ کالا‘ اور تکبر کی سزا جہنم کے سوا اور کوئی ہو نہیں سکتی تاکہ اس کے سب کس بل نکل جائیں اور دماغ ٹھکانے پر آجائے۔