ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الزمر (39) — آیت 56

اَنۡ تَقُوۡلَ نَفۡسٌ یّٰحَسۡرَتٰی عَلٰی مَا فَرَّطۡتُّ فِیۡ جَنۡۢبِ اللّٰہِ وَ اِنۡ کُنۡتُ لَمِنَ السّٰخِرِیۡنَ ﴿ۙ۵۶﴾
(ایسا نہ ہو)کہ کوئی شخص کہے ہائے میرا افسوس! اس کوتاہی پر جو میں نے اللہ کی جناب میں کی اور بے شک میں تو مذاق کرنے والوں سے تھا۔ En
کہ (مبادا اس وقت) کوئی متنفس کہنے لگے کہ (ہائے ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے خدا کے حق میں کی اور میں تو ہنسی ہی کرتا رہا
En
(ایسا نہ ہو کہ) کوئی شخص کہے ہائے افسوس! اس بات پر کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے حق میں کوتاہی کی بلکہ میں تو مذاق اڑانے والوں میں ہی رہا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

56۔ (کہیں ایسا نہ ہو کہ اس وقت) کوئی کہنے لگے:“ افسوس میری اس کوتاہی پر جو میں [74] اللہ کے حق میں کرتا رہا اور میں تو مذاق اڑانے والوں میں سے تھا
[74] یعنی میں نے اللہ کے احکام کے مقابلہ میں اپنے آباء کی تقلید کو ترجیح دی۔ اللہ کے حقوق دوسروں کو دیتا رہا۔ اللہ کے بجائے دوسروں کو پکارتا اور ان کی عبادت کرتا رہا۔ اللہ کے دین کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا رہا اور اللہ کی آیات اور اس کی وعید کا مذاق اڑاتا رہا۔ اور ان چیزوں کی کوئی حقیقت ہی نہ سمجھی۔ کاش! میں ایسے ایسے کام نہ کرتا جس کے نتیجہ میں مجھے آج یہ برا وقت دیکھنا پڑا۔