ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الزمر (39) — آیت 55

وَ اتَّبِعُوۡۤا اَحۡسَنَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ الۡعَذَابُ بَغۡتَۃً وَّ اَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿ۙ۵۵﴾
اور اس سب سے اچھی بات کی پیروی کرو جو تمھارے رب کی جانب سے تمھاری طرف نازل کی گئی ہے، اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تم سوچتے بھی نہ ہو۔ En
اور اس سے پہلے کہ تم پر ناگہاں عذاب آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو اس نہایت اچھی (کتاب) کی جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ہے پیروی کرو
En
اور پیروری کرو اس بہترین چیزکی جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل کی گئی ہے، اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں اطلاع بھی نہ ہو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

55۔ اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے پروردگار کے ہاں سے نازل ہوا ہے اس کے بہترین [73] پہلو کی پیروی کرو پیشتر اس کے کہ اچانک تم پر عذاب آجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو
[73] اتباع احسن سے کیا مراد ہے؟
اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ قرآن کریم سارے کا سارا ہی احسن الحدیث ہے۔ لہٰذا اس میں جو اوامر ہیں ان کی تعمیل کرے، نواہی سے اجتناب کرے، امثال اور قصوں میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے اس سے عبرت اور نصیحت حاصل کرے۔ اس کے برعکس جو شخص جو نہ اوامر کی تعمیل کرے نہ نواہی سے اجتناب کرے اور نہ وعظ و نصیحت سے کوئی اثر قبول کرے۔ ایسا شخص وہ پہلو اختیار کرتا ہے جسے کتاب اللہ بد ترین پہلو قرار دیتی ہے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس کے اوامر کو اچھی سے اچھی شکل میں بجا لائے۔ نواہی سے پوری طرح اجتناب کرے بلکہ جس بات میں شک ہو اسے بھی چھوڑ دے اور پند و نصیحت سے بھی وہ مطلب لے اور اثر قبول کرے جو ایک قلب سلیم کا تقاضا ہوتا ہے۔ اپنے نظریات اور خواہشات کو قرآن سے کشید کرنے کی کوشش نہ کرے۔