کہہ دے اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بے شک اللہ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے۔ بے شک وہی تو بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
En
(اے پیغمبر میری طرف سے لوگوں کو) کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ (اور) وہ تو بخشنے والا مہربان ہے
(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت واﻻ ہے
En
53۔ آپ لوگوں سے کہہ دیجئے: اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں [71] پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، اللہ یقیناً سارے ہی گناہ معاف کر دیتا ہے کیونکہ وہ ﴿غفور رحيم﴾ ہے
[71] اسلام لانے سے، پہلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں :۔
اس آیت کے انداز سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ کسی سوال کے جواب میں نازل ہوئی ہے اور ان لوگوں کے لئے پیغام امید لے کر آئی ہے جو دور جاہلیت میں قتل، زنا، چوری، ڈاکے اور ایسے ہی سخت گناہوں میں غرق رہ چکے تھے اور اس بات سے مایوس تھے کہ یہ قصور کبھی معاف نہ ہو سکیں گے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے: 1۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کچھ مشرکوں نے بہت خون کئے تھے اور بکثرت زنا کرتے رہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگے:”آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ کہتے ہیں اور جس دین کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ اچھا ہے۔ کیا اچھا ہو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ بتا دیں کہ ہمارا اسلام لانا ہمارے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا؟“ اس وقت (سورہ فرقان کی) یہ آیت: ﴿وَالَّذِيْنَلَايَدْعُوْنَمَعَاللّٰهِاِلٰــهًااٰخَرَ﴾ یہ آیت: ﴿قُلْيٰعِبَادِيَالَّذِيْنَ﴾ تا آخر نازل ہوئی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير] 2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندو! تم رات دن گناہ کرتے ہو اور میں تمام گناہ معاف کر دیتا ہوں تم مجھ ہی سے معافی مانگو۔ میں معاف کر دوں گا۔ [مسلم۔ کتاب البر والصلۃ۔ باب تحریم الظلم]
تحریف معنوی کی ایک مثال :۔
اس آیت کی بعض لوگوں نے بہت عجیب سی تاویل کی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے کہہ رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے کہہ دیجئے کہ اے میرے بندو! یعنی بندے اللہ کے نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں۔ یہ تاویل دراصل تاویل نہیں بلکہ بد ترین قسم کی تحریف ہے۔ کیونکہ یہ تاویل قرآن کی ساری تعلیم کے برخلاف ہے۔ نیز اس سے رسول اللہ کی شان بڑھتی نہیں بلکہ ان پر سخت الزام آتا ہے۔ آپ اس لئے مبعوث ہوئے تھے کہ سب لوگوں کو دوسرے معبودوں کی بندگی سے ہٹا کر خالص اللہ کے بندے بنائیں۔ نہ یہ کہ اپنے ہی بندے بنانا شروع کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اللہ کے بندے تھے اور اس بندگی کا اقرار کرنے سے ہی ایک شخص اسلام میں داخل ہو سکتا ہے اور اس بندگی کا اقرار ہم سب نمازوں میں کئی بار کرتے ہیں۔ اس تاویل کو دیکھ کر بے اختیار ڈاکٹر اقبال (رح) کے یہ شعر یاد آجاتے ہیں: زمن برصوفی و ملا سلامے کہ پیغام خدا گفتند ما را ولے تاویل شان در حیرت انداخت خدا و جبرئیل و مصطفی را
ترجمہ :
میری طرف سے صوفی و ملا کو سلام ہو جنہوں نے ہمیں اللہ کا پیغام پہنچایا۔ لیکن ان کی تاویل نے اللہ، جبرئیل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ (کہ ہم نے کیا کہا تھا اور ان لوگوں نے اس کا کیا مطلب لے لیا ہے)
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔