ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الزمر (39) — آیت 49

فَاِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ۫ ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰہُ نِعۡمَۃً مِّنَّا ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِیۡتُہٗ عَلٰی عِلۡمٍ ؕ بَلۡ ہِیَ فِتۡنَۃٌ وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۹﴾
پھر جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا کرتے ہیں تو کہتا ہے یہ مجھے ایک علم کی بنیاد ہی پر دی گئی ہے۔ بلکہ وہ ایک آزمائش ہے اور لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔ En
جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے۔ پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے نعمت بخشتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے (میرے) علم (ودانش) کے سبب ملی ہے۔ (نہیں) بلکہ وہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے
En
انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے، پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرمادیں تو کہنے لگتا ہے کہ اسے تو میں محض اپنے علم کی وجہ سے دیا گیا ہوں، بلکہ یہ آزمائش ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے علم ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

49۔ انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا [65] ہے، پھر جب ہم اسے اپنی نعمت سے نوازتے ہیں تو کہتا ہے: مجھے تو یہ چیز علم [66] (اور تجربہ) کی بنا پر حاصل ہوئی ہے (بات یوں نہیں) بلکہ یہ ایک آزمائش [67] ہوتی ہے مگر ان میں سے اکثر جانتے نہیں۔
[65] یعنی خوشحالی کے دور میں اپنے معبودوں کی شان بڑھاتے اور اللہ کی گھٹاتے ہیں۔ لیکن مصیبت پڑنے پر پھر اللہ ہی کو پکارتے ہیں اور جن معبودوں کی شان بڑھا چڑھا کر بیان کرتے تھے، مصیبت کے وقت وہ کام نہیں آتے۔
[66] اس جملہ کے تین مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ جو مال و دولت کی فراوانی مجھے نصیب ہوئی ہے۔ پہلے ہی اللہ کے علم میں تھی اور میرے مقدر میں لکھی ہوئی تھی۔ دوسرا یہ کہ اللہ کو میری استعداد معلوم تھی اور قیاس چاہتا تھا کہ مجھے یہ مال و دولت ملنی چاہئے۔ تیسرا یہ کہ جو کہ مجھے ملا ہے۔ میرے علم، میرے تجربہ اور میری استعداد کے مطابق ہی مجھے ملا ہے۔
[67] مال کی آزمائش بڑی سخت ہے۔ بحرین کے جزیہ کی رقم کی تقسیم :۔
یہ دنیا دار الامتحان ہے اور اس دنیا میں ہر انسان کی ہر حال میں آزمائش ہو رہی ہے اور ہر وقت ہو رہی ہے۔ اور جن چیزوں سے انسان کا امتحان ہو رہا ہے ان میں سے ایک نہایت اہم چیز مال و دولت کی فراوانی ہے۔ یہ انسان کے لئے کتنی بڑی آزمائش ہے؟ درج ذیل احادیث سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے:
1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو بحرین سے جزیہ لانے کے لئے بھیجا۔ جب ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ جزیہ کا مال لے کر واپس آئے تو اگلے دن صبح کی نماز میں معمول سے زیادہ لوگ شریک ہوئے اور سلام پھیرتے ہی (حسن طلب کے طور پر) آپ کے سامنے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بات سمجھ کر مسکرا دیئے اور فرمایا: تم خوش ہو جاؤ اور خوشی کی امید رکھو۔ (یعنی تم کو روپیہ ضرور ملے گا) پھر فرمایا:”اللہ کی قسم! مجھ کو تمہاری محتاجی کا ڈر نہیں ہے بلکہ مجھ کو تو یہ ڈر ہے کہ تم پر سامان زیست کی یوں فراوانی ہو جائے جیسے اگلے لوگوں پر ہوئی اور تم بھی اسی طرح دنیا کے پیچھے پڑ جاؤ جس طرح وہ پڑ گئے اور یہ مال کی کشادگی تمہیں آخرت سے اسی طرح غافل نہ کر دے جس طرح ان لوگوں کو کیا تھا“ [بخاری۔ کتاب الرقاق۔ باب مایحذر من زھرۃ الدنیا والتنافس فیھا]
2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! مجھے یہ ڈر نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگ جاؤ گے بلکہ میں تو اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم دنیا پر ریجھ نہ جاؤ“
3۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر امت کی ایک آزمائش ہے اور میری امت کی آزمائش مال ہے“ [ترمذی۔ بحوالہ مشکوۃ۔ کتاب الرقاق۔ دوسری فصل]