ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الزمر (39) — آیت 24

اَفَمَنۡ یَّتَّقِیۡ بِوَجۡہِہٖ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ وَ قِیۡلَ لِلظّٰلِمِیۡنَ ذُوۡقُوۡا مَا کُنۡتُمۡ تَکۡسِبُوۡنَ ﴿۲۴﴾
تو کیا وہ شخص جو قیامت کے دن اپنے چہرے کے ساتھ بد ترین عذاب سے بچے گا (وہ جنتی جیسا ہو سکتا ہے؟) اور ظالموں سے کہا جائے گا چکھو جو تم کمایا کرتے تھے۔ En
بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہو (کیا وہ ویسا ہوسکتا ہے جو چین میں ہو) اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم کرتے رہے تھے اس کے مزے چکھو
En
بھلا جو شخص قیامت کے دن کے بدترین عذاب کی سپر (ڈھال) اپنے منھ کو بنائے گا۔ (ایسے) ﻇالموں سے کہا جائے گا کہ اپنے کیے کا (وبال) چکھو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

24۔ پھر جو شخص قیامت کے دن کے سخت [40] عذاب کو اپنے چہرے پر روکے گا (اس کی بے بسی کا کچھ اندازہ ہو سکتا ہے؟) اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ اپنی ان کرتوتوں کا مزا چکھو جو تم کیا کرتے تھے۔
[40] انسان کی عادت ہے کہ جب اس کے بدن پر کوئی ضرب پڑنے والی ہو تو سب سے پہلے وہ اپنے ہاتھوں سے اس کی روک تھام کرتا ہے یعنی پڑنے والے وار کی ہاتھوں سے مدافعت کرتا ہے۔ اور اگر حملہ شدید ہو اور ہاتھوں سے اسے روکا نہ جا سکتا ہو تو باقی بدن کے ہر حصے پر ضرب پڑنا گوار کر لیتا ہے لیکن جیسے بھی بن پڑے چہرے کو اس ضرب سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ قیامت کے دن ان کے ہاتھ تو بندھے ہوں گے اور بے بسی کا بھی یہ عالم ہو گا کہ اس عذاب کو مجبوراً انہیں اپنے چہروں پر برداشت کرنا پڑے گا۔ پھر ساتھ ہی انہیں یہ بھی کہا جائے گا کہ یہ تمہارے ہی اعمال کا بدلہ ہے۔ یہاں پھر سوال کا اگلا حصہ محذوف ہے اور یہ جملہ یوں مکمل ہوتا ہے کہ کیا ایسا شخص اس مومن کی طرح ہو سکتا ہے جسے آخرت میں کوئی تکلیف اور نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہی نہ ہو بلکہ اسے اس دن ہر طرح سے راحت اور اطمینان میسر ہو؟