تو کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے، سو وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر ہے (کسی سخت دل کافر جیسا ہو سکتا ہے؟) پس ان کے لیے ہلاکت ہے جن کے دل اللہ کی یاد کی طرف سے سخت ہیں، یہ لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔
En
بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کے لئے کھول دیا ہو اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو (تو کیا وہ سخت دل کافر کی طرح ہوسکتا ہے) پس ان پر افسوس ہے جن کے دل خدا کی یاد سے سخت ہو رہے ہیں۔ اور یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں
کیا وه شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نےاسلام کے لئے کھول دیا ہے پس وه اپنے پروردگار کی طرف سے ایک نور پر ہے اور ہلاکی ہے ان پر جن کے دل یاد الٰہی سے (اﺛر نہیں لیتے بلکہ) سخت ہو گئے ہیں۔ یہ لوگ صریح گمراہی میں (مبتلا) ہیں
En
22۔ بھلا جس شخص کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے کھول [33] دیا ہو اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے ایک روشنی [34] پر ہو (اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو کوئی سبق نہیں لیتا) لہذا ان لوگوں کے لئے ہلاکت ہے جن کے دل اللہ کے ذکر سے (اور) سخت [35] ہو جاتے ہیں۔ یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔
[33] شرح صدر کا مفہوم :۔
اسلام کے لئے سینہ کھول دینے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی حقانیت کا دل میں اس طرح یقین پیدا ہو جائے جس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔ اور انسان اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے اس طرح آمادہ ہو جائے کہ اس سے پیچھے ہٹنا اسے کسی قیمت پر گوارا نہ ہو۔ گو ایسا شرح صدر اللہ ہی کی توفیق سے نصیب ہوتا ہے۔ تاہم یہ توفیق بھی اللہ اسی شخص کو دیتا ہے۔ جو خود بھی حق بات کو قبول کرنے پر آمادہ ہو۔ [34] اس روشنی سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتاب ہے جو زندگی کے ہر میدان میں اور اس کے ہر موڑ پر اس کی رہنمائی کرتی ہے۔ پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ جنہوں نے اللہ کے احکام کو عملی جامہ پہنا کر اپنے آپ کو امت کے سامنے نمونہ کے طور پر پیش فرمایا۔ [35] یعنی ایک طرف تو ایسا شخص ہے جس کا اللہ نے سینہ بھی اسلام کے لئے کھول دیا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ روشنی میں نہایت سکون و اطمینان کے ساتھ اللہ کے راستہ پر گامزن ہے۔ دوسری طرف وہ شخص ہے جس کے دل میں حق بات سنتے ہی گھٹن پیدا ہو جاتی ہے اور ناگواری کے اثرات اس کے چہرہ پر نمودار ہونے لگتے ہیں۔ پھر اس کی ضد، عناد اور ہٹ دھرمی نے اس کے دل کو پتھر کی طرح سخت بنا دیا ہو جس کے دل میں خیر کا ایک قطرہ بھی نہ گھس سکتا ہو۔ نہ کوئی نصیحت اس پر اثر کرے۔ نہ کبھی اللہ کی یاد کی توفیق نصیب ہو۔ وہ یا تو اپنے ہی نفس کی پیروی کرے یا اپنے آباء کی رسوم اور تقلید کی تاریکیوں میں بھٹکتا پھرے۔ کیا یہ دونوں انجام کے لحاظ سے ایک جیسے ہو سکتے ہیں؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔