ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ ص (38) — آیت 86

قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَکَلِّفِیۡنَ ﴿۸۶﴾
کہہ دے میںتم سے اس پر کوئی اجرت نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں سے ہوں ۔ En
اے پیغمبر کہہ دو کہ میں تم سے اس کا صلہ نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں ہوں
En
کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس پر کوئی بدلہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

86۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ: میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔ نہ ہی میں تکلف کر (کے نبی بن) رہا [76] ہوں
[76] یعنی میں بالکل بے لوث ہو کر تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں۔ اس کا نہ تم سے کوئی صلہ مانگتا ہوں اور نہ ہی میری کوئی ذاتی غرض اس سے وابستہ ہے اور نہ میں ان لوگوں میں سے ہوں کہ اپنی بڑائی قائم کرنے کے لئے جھوٹے دعوے لے کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اور اس بات پر شہادت میری سابقہ تمام زندگی ہے جسے تم خوب جانتے ہو۔
لاعلمی کا اعتراف کر لینا بھی عالم ہونے کی دلیل ہے:۔
لفظ ﴿متكلّفين کے معنی درج ذیل حدیث سے بھی واضح ہوتے ہیں: مسروق کہتے ہیں کہ ہم عبد اللہ بن مسعودؓ کے ہاں گئے۔ انہوں نے کہا: لوگو! جو شخص کوئی بات جانتا ہو تو اسے بیان کرے اور اگر نہ جانتا ہو تو کہہ دے کہ ”اللہ ہی بہتر جانتا ہے“ کیونکہ ایسا کہنا بھی کمال علم کی دلیل ہے۔ اللہ عز و جل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: کہ ”میں اس (تبلیغ) پر تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا اور نہ ہی میں دل سے باتیں بنانے والوں سے ہوں“ [بخاري۔ كتاب التفسير]