ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ ص (38) — آیت 69

مَا کَانَ لِیَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤی اِذۡ یَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿۶۹﴾
مجھے سب سے اونچی مجلس کے متعلق کبھی کچھ علم نہیں، جب وہ آپس میں جھگڑتے ہیں۔ En
مجھ کو اوپر کی مجلس (والوں) کا جب وہ جھگڑتے تھے کچھ بھی علم نہ تھا
En
مجھے ان بلند قدر فرشتوں کی (بات چیت کا) کوئی علم ہی نہیں جبکہ وه تکرار کر رہے تھے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

69۔ مجھے تو عالم بالا [68] کے متعلق کچھ علم نہ تھا جب وہ جھگڑ رہے تھے۔
[68] عالم بالا میں فرشتوں کی بحثیں:۔
عالم بالا سے مراد فرشتوں کا مستقر ہے۔ ان میں بھی کبھی کبھار کوئی بحث چھڑ جاتی ہے۔ انہیں میں سے ایک بحث وہ ہے جو سیدنا آدمؑ کی پیدائش کے وقت ہوئی تھی اور جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ خطاب ہے۔ کہ آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے کہ عالم بالا میں جو کچھ بحثیں وغیرہ ہوتی ہیں۔ مجھے ان کا قطعاً کچھ علم نہیں ہوتا صرف اسی بات کا علم ہوتا ہے۔ جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے اور میں چونکہ لوگوں کو ان کے انجام سے خبردار کرنے والا ہوں لہٰذا مجھے صرف انہی بحثوں کے متعلق وحی کی جاتی ہے جن کا تعلق انسانوں کی ہدایت سے ہوتا ہے۔