43۔ اور ہم نے انہیں ان کے اہل و عیال عطا کئے اور اپنی مہربانی سے ان کے ساتھ اتنے اور بھی دیئے [49] اور یہ اہل عقل و خرد کے لئے ایک نصیحت [50] ہے۔
[48] سیدنا ایوبؑ کا واقعہ پہلے سورۃ انبیاء کی آیت نمبر 83، 84 کے حواشی میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ وہ ملاحظہ کر لیے جائیں۔ [49] اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کی جو بیویاں اور بچے بیماری کی حالت میں آپ کا ساتھ چھوڑ گئے وہ واپس آگئے۔ پھر اللہ نے مزید اولاد بھی عطا فرما دی۔ اور یہ بھی سب کچھ اللہ تعالیٰ نے نئے سرے سے عطا فرمایا ہو، اولاد بھی اور مال و دولت بھی اور جس معجزانہ طریقے سے اللہ نے آپ کو مال و دولت عطا فرمایا اس کا اندازہ کچھ درج ذیل حدیث سے بھی ہوتا ہے۔
سیدنا ایوب پر اللہ کے انعامات:۔
سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ایوبؑ ننگے نہا رہے تھے تو آپ پر سونے کی ٹڈیوں کی بارش ہوئی جنہیں آپ اپنے کپڑے میں اکٹھا کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں پکارا کہ ”اے ایوب! کیا میں نے تمہیں ان ٹڈیوں سے بے نیاز نہیں کر دیا؟“ انہوں نے عرض کیا، ٹھیک ہے لیکن اے پروردگار! میں تیری برکت سے کیسے بے نیاز ہو سکتا ہوں۔ [بخاري۔ كتاب التوحيد۔ باب يريدون ان يبدلوا كلام الله نيز كتاب الغسل۔ باب من اغتسل عريانا]
[50] صبر ایوب:۔
وہ نصیحت یہ ہے کہ ہر ایماندار اور صاحب عقل کو چاہئے کہ وہ خوشحالی کے دور میں اللہ کا شکر ادا کرے اور اگر ابتلا میں پڑ جائے اور اس پر تنگی ترشی کا دور آئے تو سیدنا ایوبؑ کی طرح صبر کا مظاہرہ کرے۔ اس طرح عین ممکن ہے کہ جس طرح سیدنا ایوبؑ پر اللہ تعالیٰ نے انعامات کی بارش فرمائی تھی۔ اللہ تعالیٰ اسے بھی اپنے ایسے ہی انعامات سے نواز دے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔