ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ ص (38) — آیت 41

وَ اذۡکُرۡ عَبۡدَنَاۤ اَیُّوۡبَ ۘ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَسَّنِیَ الشَّیۡطٰنُ بِنُصۡبٍ وَّ عَذَابٍ ﴿ؕ۴۱﴾
اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کر، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بے شک شیطان نے مجھے بڑا دکھ اور تکلیف پہنچائی ہے۔ En
اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ (بار الہٰا) شیطان نے مجھ کو ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے
En
اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا (بھی) ذکر کر، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے رنج اور دکھ پہنچایا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

41۔ اور ہمارے بندے ایوب کا ذکر کیجئے۔ جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ: شیطان [47] نے مجھے سخت تکلیف اور عذاب میں ڈال دیا ہے
[47] برے ایمان کی نسبت شیطان کی طرف:۔
ہر مسلمان کے عقیدہ میں یہ بات شامل اور اس کے ایمان بالغیب کا ایک جزء ہے کہ رنج ہو یا راحت، برائی ہو یا بھلائی سب کچھ اللہ کی مشیئت کے تحت ہوتا ہے۔ لیکن اس مشیئت کا انحصار بھی بعض دفعہ انسان کے اپنے قصور یا شیطانی وساوس سے کسی نہ کسی درجہ میں ضرور ہوتا ہے۔ اور قرآن کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جن امور میں کوئی پہلو شر کا، یا ایذا یا کسی صحیح مقصد کے فوت ہو جانے کا ہو ان کو اللہ کے مقرب بندے ادب کے نقطہ نظر اور تواضع کی خاطر کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کرتے بلکہ اسے اپنے نفس یا شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ جیسے سیدنا ابراہیمؑ نے اپنے مرض کو اپنی طرف منسوب کیا۔ سیدنا موسیٰؑ کے ساتھ یوشع بن نون نے مچھلی کے سمندر میں چلے جانے کی بات کو شیطان کی طرف منسوب کیا، اسی طرح ایوب نے بھی اپنی بیماری اور تکلیف کو شیطان کی طرف منسوب کیا ہے اور اس کا مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ سیدنا ایوبؑ طویل بیماری اور تکلیف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی صحیح طور پر عبادت گزاری سے قاصر رہے تھے تو اس قصور کا باعث شیطانی وساوس کو قرار دیا ہو۔