ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ ص (38) — آیت 4

وَ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَہُمۡ مُّنۡذِرٌ مِّنۡہُمۡ ۫ وَ قَالَ الۡکٰفِرُوۡنَ ہٰذَا سٰحِرٌ کَذَّابٌ ۖ﴿ۚ۴﴾
اور انھوں نے اس پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا اور کافروں نے کہا یہ ایک سخت جھوٹا جادوگر ہے۔ En
اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس ان ہی میں سے ہدایت کرنے والا آیا اور کافر کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا
En
اور کافروں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان ہی میں سے ایک انہیں ڈرانے واﻻ آگیا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ کافر اس بات پر متعجب ہیں کہ انہی میں سے [3] ایک ڈرانے والا ان کے پاس آیا ہے اور کافر کہنے لگے کہ: ”یہ تو جادوگر [4] ہے بڑا جھوٹا“
[3] تعجب کی بات تو تب تھی کہ نبی کوئی اجنبی یا فرشتہ ہوتا:۔
ان کی عقل پر کچھ اس طرح پتھر پڑ گئے ہیں کہ انہی میں سے ایک ڈرانے والا آیا ہے جو ان کی زبان جانتا ہے، انہی کی زبان میں انہیں سمجھاتا ہے، تو انہیں اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ ہم جیسا ہی ایک آدمی رسول بن بیٹھا ہے۔ حالانکہ تعجب کی بات تو تب تھی کہ کوئی اجنبی ان میں نبی بنا کر بھیج دیا جاتا جس کی زبان نہ یہ سمجھتے نہ وہ ان کی زبان سمجھتا۔ یا کوئی فرشتہ نبی بنا کر ان پر مسلط کر دیا جاتا جو ان کے انکار پر ان کی گردنیں توڑ کر رکھ دیتا۔
[4] کافر آپ کو جادوگر ان معنوں میں کہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا جو کلام پیش کرتے تھے۔ اس میں اس قدر شیرینی اور تاثیر تھی کہ جو کوئی سنتا وہ آپ کا گرویدہ ہو جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ہو کر رہ جاتا تھا۔ خواہ اسے اس راستہ میں کتنی ہی مشکلات پیش آتیں اور جھوٹا اس لحاظ سے کہتے تھے کہ آپ جو تعلیم پیش کر رہے تھے وہ ان کے معتقدات کے خلاف تھی۔ وہ تو یہ سوچنے کے لئے قطعاً تیار نہ تھے کہ ہمارے معتقدات بھی غلط ہو سکتے ہیں اس کے بجائے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا کہہ دیتے تھے۔