ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ ص (38) — آیت 34

وَ لَقَدۡ فَتَنَّا سُلَیۡمٰنَ وَ اَلۡقَیۡنَا عَلٰی کُرۡسِیِّہٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ ﴿۳۴﴾
اور بلا شبہ یقینا ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور اس کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، پھر اس نے رجوع کیا۔ En
اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا
En
اور ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک جسم ڈال دیا پھر اس نے رجوع کیا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

34۔ نیز ہم نے سلیمان کو آزمائش میں ڈالا اور اس کی کرسی پر ایک جسد لا کر ڈال [41] دیا پھر اس نے رجوع کر لیا
[41] اس آیت کے تحت بعض مفسرین نے درج ذیل حدیث درج کی ہے: سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ سیدنا سلیمانؑ نے کہا کہ میں آج رات اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ان سے ہر ایک، ایک سوار جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا آپ کے کسی ساتھی نے کہا ان شاء اللہ کہو! مگر انہوں نے یہ بات نہ کہی تو ان میں سے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی ماسوائے ایک کے اور وہ بھی ادھورا بچہ جنی۔ اس پروردگار کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر وہ ان شاء اللہ کہہ لیتے تو سب کے ہاں بچے پیدا ہوتے اور سوار ہو کر اللہ کی راہ میں جہاد کرتے۔ [بخاري۔ كتاب الايمان والنذور۔ باب كيف كانت يمين النبي]
لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کا اس آیت کی تفسیر سے کچھ تعلق نہیں اور اس کی وجوہ درج ذیل ہیں:
1۔ یہ حدیث بخاری کے علاوہ دوسری کتب حدیث میں موجود ہے لیکن کسی محدث نے اپنی کتاب التفسیر میں اس حدیث کو اس آیت کی تفسیر میں درج نہیں کیا۔
2۔ امام بخاری نے اس حدیث کو چار مختلف مقامات پر درج کیا ہے جو یہ ہیں۔ [كتاب بدء الخلق۔ كتاب الانبياء، كتاب الاَيمان والنذور۔ باب كيف كانت يمين النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، اور باب الكفارة قبل الحنث اور كتاب التوحيد، باب فى المشيئة والارادة] مگر کتاب التفسیر میں درج نہیں کیا۔
3۔ اگرچہ اس حدیث میں لفظی اختلاف موجود ہے۔ مگر کسی متن میں بھی یہ الفاظ موجود نہیں ہیں کہ یہ ادھورا بچہ دایہ نے یا لوگوں نے سیدنا سلیمانؑ کے تخت یا کرسی پر ڈال دیا تھا۔ یہ مفسرین کا اپنی طرف سے اضافہ ہے۔ حالانکہ سیدنا سلیمانؑ کی آزمائش کا تعلق اسی بات سے ہے۔
سیدنا سلیمان کو اللہ نے کس آزمائش میں ڈالا تھا:۔
اس کے علاوہ بھی بعض مفسرین نے کچھ باتیں نقل کی ہیں لیکن وہ بالکل ہی بے سروپا، غیر معقول اور لایعنی ہیں قرآن سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا سلیمانؑ کی آزمائش کا تعلق ایک بے جان دھڑ سے تھا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ اس پر آپ کو معلوم ہوا کہ آپ تو آزمائش میں پڑ چکے ہیں پھر اسی وقت اللہ کی طرف رجوع ہوئے اپنے قصور کی معافی مانگی اور ساتھ ہی یہ دعا کی مجھے ایسی بادشاہی عطا فرما جو میرے بعد کسی کے شایان نہ ہو۔ چنانچہ آپؑ کا یہ قصور بھی معاف کر دیا گیا اور دعا بھی قبول ہو گئی کہ ہواؤں اور جنوں کو آپ کے لئے مسخر کر دیا گیا جیسا کہ آگے مذکور ہے اور درج ذیل حدیث اسی کی وضاحت کرتی ہے:
رسول اللہﷺ سے بھڑنے والا جن:۔
سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گزشتہ رات ایک دیو ہیکل جن مجھ سے بھڑ پڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ یا کوئی ایسا ہی کلمہ کہا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر غالب کر دیا۔ میں نے چاہا کہ مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ اسے باندھ دوں تاکہ صبح تم اسے دیکھ سکو پھر مجھ کو اپنے بھائی سلیمانؑ کی دعا یاد آگئی کہ: اے میرے پروردگار! مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد اور کسی کے شایان نہ ہو۔ روح راوی نے کہا کہ آپ نے اس جن کو ذلت کے بعد بھگا دیا۔ [بخاری۔ کتاب التفسیر نیز کتاب الصلوۃ باب الاسیر اوالغریم یربطہ فی المسجد]
اور یہ ایسی فضیلت ہے کہ جو آپ کے بعد (یا پہلے) نہ کسی نبی کو حاصل ہوئی اور نہ بادشاہ کو۔ رہی یہ بات کہ اصل آزمائش تھی کیا؟ اور بے جان دھڑ سے کون سے واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ اس کی کوئی معقول توجیہ نہ مجھے کہیں سے ملی ہے اور نہ ہی میرے ذہن میں آسکی ہے۔ ﴿واللّٰه اعلم بالصواب﴾