ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ ص (38) — آیت 32

فَقَالَ اِنِّیۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَیۡرِ عَنۡ ذِکۡرِ رَبِّیۡ ۚ حَتّٰی تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ ﴿ٝ۳۲﴾
تو اس نے کہا بے شک میں نے اس مال کی محبت کو اپنے رب کی یاد کی وجہ سے دوست رکھا ہے ۔یہاں تک کہ وہ پردے میں چھپ گئے۔ En
تو کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد سے (غافل ہو کر) مال کی محبت اختیار کی۔ یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا
En
تو کہنے لگے میں نے اپنے پروردگار کی یاد پر ان گھوڑوں کی محبت کو ترجیح دی، یہاں تک کہ (آفتاب) چھﭗ گیا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

32۔ تو کہا: میں نے اس مال کو اپنے پروردگار کی یاد کی بنا پر پسند کیا ہے۔ حتیٰ کہ وہ رسالہ آپ کے سامنے سے [40] اوجھل ہو گیا۔
[40] سیدنا سلیمان کے ہاں پیش کئے جانے والے گھوڑے:۔
تو ارت میں واحد مونث کی ضمیر کس طرف راجع ہے؟ اس میں اختلاف کی وجہ سے اس آیت کی تفسیر میں بھی خاصا اختلاف واقع ہوا ہے۔ ﴿تَوَارَتْ بالْحِجَابِ سے بعض مفسرین نے یہ مراد لی ہے کہ جب گھوڑوں کا رسالہ نظروں سے چھپ گیا۔ اور بعض نے یہ مراد لی ہے کہ جب سورج غروب ہو گیا۔ پہلے معنی کے لحاظ سے تفسیر یہ کی جاتی ہے کہ ایک دن پچھلے پہر سیدنا سلیمانؑ اپنے گھوڑوں کا معائنہ کر رہے تھے پھر ان کی دوڑ کرائی تا آنکہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گئے چونکہ یہ سارا سلسلہ جہاد کی خاطر تھا اس لئے آپ اس شغل سے بہت محظوظ ہوئے اور کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد کی وجہ سے ہی یہ شغل پسند کیا ہے۔ پھر گھوڑے اپنے پاس طلب کئے اور شفقت سے ان کی گردنوں اور ان کی پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے تفسیر یہ ہے کہ آپؑ گھوڑوں کے شغل میں اتنے محو ہوئے کہ سورج ڈوب گیا اور اس شغل نے آپ کو اللہ کی یاد یعنی نماز سے غافل کر دیا۔ اس واقعہ سے آپؑ کو بہت دکھ ہوا۔ آپؑ نے گھوڑوں کو طلب کیا اور ان کی گردنیں اور پنڈلیاں کاٹنا شروع کر دیں اور چند گھوڑے کاٹ کر ان کا گوشت محتاجوں میں تقسیم کر دیا۔ چونکہ آپؑ نے یہ کام اللہ کی محبت کی خاطر کیا تھا اس لئے اللہ نے آپؑ کو یہ صلہ دیا کہ ہواؤں کو آپ کے تابع کر دیا اور آپؑ کو گھوڑوں کے رسالے کی اتنی احتیاج ہی نہ رہی جتنی پہلے تھی۔