ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ ص (38) — آیت 2

بَلِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِیۡ عِزَّۃٍ وَّ شِقَاقٍ ﴿۲﴾
بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکبر اور مخالفت میں (پڑے ہوئے) ہیں۔ En
مگر جو لوگ کافر ہیں وہ غرور اور مخالفت میں ہیں
En
بلکہ کفار غرور ومخالفت میں پڑے ہوئے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

2۔ بلکہ یہ کافر [1] ہی تکبر اور مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں
[1] نصیحت والے قرآن کی قسم اٹھانے کے بعد بل کے لفظ سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہاں کچھ عبارت محذوف ہے جسے پڑھنے اور سننے والے کی فہم و بصیرت پر چھوڑ دیا گیا ہے اور یہ عبارت یوں بنتی ہے کہ اس سراسر نصیحت والے قرآن کی قسم کہ اس کی عبارت میں کوئی پیچیدگی نہیں، اس کے دلائل بھی عام فہم ہیں اور اس کے مطالب سمجھنے میں بھی کسی کو کوئی دشواری نہیں مگر کافر پھر بھی اس پر طرح طرح کے اعتراض کر رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ انہیں سمجھ نہیں آرہی بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ اس کی تعلیمات کو تسلیم کرنے میں اپنی، اپنے آباء و اجداد کی اور اپنے معبودوں کی ہتک محسوس کرتے ہیں۔ لہٰذا چڑ کر اس کی مخالفت پر اتر آئے ہیں۔